پاکستان اور آذربائیجان نے قانون، انصاف اور عدالتی اصلاحات کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ترجمان کے مطابق اس اتفاق کا اظہار باکو میں پاکستان کے وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک اور آذربائیجان کے وزیر انصاف فرید احمدوف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔
وزیر مملکت قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کی آذربائیجان کے وزیر انصاف فرید احمدوف سے ملاقات، قانون، انصاف اور عدالتی اصلاحات کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ

مزید خبریں
اسلام آباد/باکو۔21جولائی (اے پی پی):پاکستان اور آذربائیجان نے قانون، انصاف اور عدالتی اصلاحات کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ترجمان کے مطابق اس اتفاق کا اظہار باکو میں پاکستان کے وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک اور آذربائیجان کے وزیر انصاف فرید احمدوف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔
ملاقات پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت باکو میں جاری ’’دی جوڈیشل کرافٹ‘‘ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام کے موقع پر ہوئی۔پاکستانی وفد میں آذربائیجان میں پاکستان کے سفیر قاسم محی الدین، وزارت قانون و انصاف کی سینئر کنسلٹنٹ اور انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (آئی میک) کی پراجیکٹ ڈائریکٹر عائشہ رسول اور آئی میک کے رجسٹرار احسان اللہ خان شامل تھےجبکہ آذربائیجان کی جانب سے وزارت انصاف کے بین الاقوامی تعاون کے ڈائریکٹر جنرل عادل ابیلوف اور جسٹس اکیڈمی کے ریکٹر روشن اسماعیلوف سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
آذربائیجان کے وزیر انصاف فرید احمدوف نے پاکستانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستی اور مضبوط ہوتے ہوئے تزویراتی تعلقات کو سراہا۔ انہوں نے وزارت ہائے انصاف کے درمیان قائم تعاون کو مثالی قرار دیتے ہوئے مختلف شعبوں میں ادارہ جاتی روابط مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔بیرسٹر عقیل ملک نے وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی نیک تمنائوں کا پیغام پہنچاتے ہوئے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو ایسے عملی تعاون میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے جس سے دونوں ملکوں کے اداروں کو دیرپا فوائد حاصل ہوں۔ملاقات میں مفاہمتی یادداشت پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ تعاون محض ایک فریم ورک تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔
اس سلسلے میں اسلام آباد میں ایڈوانسڈ ٹریٹی پریکٹس: فرام سگنیچر ٹو ڈومیسٹک لا پروگرام اور باکو میں دی جوڈیشل کرافٹ تربیتی پروگرام کے انعقاد کو اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔دونوں وزراء نے عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی استعداد کار، قانونی تحقیق، قانون سازی، انصاف کے نظام کی ڈیجیٹل تبدیلی، ثالثی اور مصالحت جیسے متبادل تنازعاتی حل کے فروغ پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ عدالتی اکیڈمیوں، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ اداروں کے درمیان مسلسل تبادلوں کو بھی اہم قرار دیا گیا تاکہ تجربات اور بہترین بین الاقوامی طریقہ کار سے استفادہ کیا جا سکے۔ملاقات میں عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں فریقین نے عدالتی انتظام، ڈیجیٹل انصاف کے اقدامات اور نئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو زیادہ موثر، قابل رسائی اور عوام کا اعتماد بڑھانے پر زور دیا۔دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مفاہمتی یادداشت پر باقاعدہ ادارہ جاتی روابط، مشترکہ پروگراموں اور اعلیٰ سطح کے تبادلوں کے ذریعے عمل درآمد جاری رکھا جائے گا تاکہ قانون کی حکمرانی مضبوط ہو، پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہو اور جدید، موثر اور عوام دوست نظام انصاف کے قیام میں مدد ملے۔








