پنجاب انسدادِ پولیو پروگرام اور گرل گائیڈز ایسوسی ایشن نے پولیو سے متعلق درست معلومات کے فروغ، غلط معلومات کا مؤثر تدارک اور کمیونٹی سطح پر آگاہی بڑھانے کے لیے مشترکہ اقدام کا آغاز کر دیا ہے۔
گرل گائیڈز کی شمولیت سے انسداد پولیو سے متعلق مثبت پیغام گھر گھر پہنچے گا،پنجاب انسدادِ پولیو پروگرام

مزید خبریں
راولپنڈی۔ 21 جولائی (اے پی پی):پنجاب انسدادِ پولیو پروگرام اور گرل گائیڈز ایسوسی ایشن نے پولیو سے متعلق درست معلومات کے فروغ، غلط معلومات کا مؤثر تدارک اور کمیونٹی سطح پر آگاہی بڑھانے کے لیے مشترکہ اقدام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس شراکت داری کے تحت ابتدائی مرحلے میں پنجاب بھر سے تقریباً 300 گرل گائیڈ رضاکاروں کو پولیو، ویکسین سے متعلق غلط معلومات کی نشاندہی، مستند معلومات کی فراہمی اور مؤثر کمیونٹی آگاہی کے حوالے سے تربیت فراہم کی گئی۔تربیت مکمل کرنے والی یہ گرل گائیڈز اب اپنے سکولوں، کالجوں اور مقامی کمیونٹیز میں پولیو آگاہی سیشنز کا انعقاد کریں گی، اپنے ہم عمر ساتھیوں اور والدین تک درست معلومات پہنچائیں گی اور انہیں ہر قومی انسدادِ پولیو مہم کے دوران اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلانے کی ترغیب دیں گی۔
پنجاب انسدادِ پولیو پروگرام کے مطابق صوبے میں اس وقت پولیو وائرس کی نگرانی کے تحت حاصل ہونے والے تمام ماحولیاتی نمونے منفی ہیں جو پولیو کے خلاف جاری کوششوں کی کامیابی کا مظہر ہیں تاہم حکام نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کامیابی اسی صورت برقرار رہ سکتی ہے جب ہر بچے کو ہر پولیو مہم کے دوران حفاظتی قطرے پلائے جائیں اور وائرس کی دوبارہ منتقلی کے خطرے کو روکنے کے لیے مسلسل احتیاط اور آگاہی کو فروغ دیا جائے۔اس موقع پر پنجاب انسدادِ پولیو پروگرام کے حکام نے کہا کہ نوجوانوں، خصوصاً گرل گائیڈز کی شمولیت سے پولیو سے متعلق مثبت پیغام گھر گھر، بلخصوص مائوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان رضاکار اپنی کمیونٹیز میں اعتماد کے ساتھ درست معلومات فراہم کرتے ہوئے ویکسین سے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات اور غلط معلومات کا مؤثر جواب دے سکتی ہیں۔پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کی نمائندگان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گرل گائیڈز معاشرے میں مثبت تبدیلی کی سفیر کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی اور ہر بچے کو پولیو سے محفوظ بنانے کے قومی مقصد میں بھرپور تعاون جاری رکھیں گی۔پنجاب انسدادِ پولیو پروگرام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر انسدادِ پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں کیونکہ مسلسل ویکسینیشن ہی پاکستان کو ہمیشہ کے لیے پولیو سے پاک بنانے کی ضمانت ہے۔
P








