صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندرحیات کی زیر صدارت دانش سکولز اتھارٹی کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس منعقد ہوا جس میں انہوں نے میٹرک امتحانات میں ٹاپ کرنے والی دانش سکولز کی دو بچیوں کو بھی اجلاس کا حصہ بنایا اور مشاورتی امور میں انہیں شامل کر کے مختلف معاملات میں ان کی آرا لیں۔
دانش سکولوں میں بلوچستان کا کوٹہ بڑھانے، بنگلہ دیش کے بچوں کا کوٹہ مختص کرنے کا فیصلہ

مزید خبریں
لاہور۔21جولائی (اے پی پی):صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندرحیات کی زیر صدارت دانش سکولز اتھارٹی کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس منعقد ہوا جس میں انہوں نے میٹرک امتحانات میں ٹاپ کرنے والی دانش سکولز کی دو بچیوں کو بھی اجلاس کا حصہ بنایا اور مشاورتی امور میں انہیں شامل کر کے مختلف معاملات میں ان کی آرا لیں۔ منگل کو منعقدہ اجلاس میں دانش سکول پراجیکٹ میں بلوچستان کے بچوں کا کوٹہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر بنگلہ دیش کے بچوں کیلئے بھی خصوصی کوٹہ مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔
صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ دانش سکولوں میں خصوصی کوٹہ پر دیگر صوبوں کے1100 کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں جبکہ آئندہ سال بنگلہ دیش سے بھی طلبا اس پراجیکٹ کا حصہ بننے کیلئے آ رہے ہیں۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ دانش سکولز کے 3460 گریجویٹس مختلف محکموں میں پیشہ وارانہ خدمات سر انجام دے رہے ہیں جبکہ بیکن ہائوس یونیورسٹی میں دانش سکولوں کے 110 بچے مکمل سکالرشپ پر تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اجلاس میں وزیر تعلیم کو بتایا گیا کہ ششم سے نہم تک کے طلبا کیلئے اے آئی سلیبس متعارف کروایا گیا ہے اور بچوں کی سوشل سکل ڈویلپمنٹ پر کام کیا جا رہا ہے۔
رانا سکندر حیات کو بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا کہ دانش سکولوں اور سنٹر آف ایکسیلنس میں مجموعی طور پر16 ڈے کئیر سنٹرز بھی بنائے گئے ہیں جبکہ71 ہزار پودوں کی شجر کاری کی میپنگ اور پراگریس کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ وزیر تعلیم نے اجلاس کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ دانش سکولوں کے طلبا کیلئے گلوبل سکالرشپ اور آرٹ ریچ پروگرام کا مکینزم بنا کر اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے۔
انہوں نے میانوالی، ڈی جی خان، فاضل پور، عارف والہ، پھولنگر میں زیر تعمیر دانش سکول جلد مکمل کرنے اور انفراسٹرکچر پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی بھی ہدایت کی اور مزید کہا کہ جو کل دانش سکول پراجیکٹ پر تنقید کرتے تھے آج بچوں کے داخلے کیلئے سفارش کر رہے ہیں۔ اسی طرح آج جو سکول آف ایمیننس پراجیکٹ پر سیاست چمکا رہے ہیں، کل وہ بھی اپنے بچوں کے داخلے کے لیے قطاروں میں ہوں گے۔ اس پراجیکٹ کا دائرہ کار بڑھانے کیلئے تجاویز زیر غور ہیں۔








