حکومت کا پاکستان کے جی ایم ٹی این اور بین الاقوامی سکوک پروگرامز کے لیے عالمی بینکوں کے کنسورشیم کا اعلان

حکومت نے پاکستان کے جی ایم ٹی این(GMTN) اور بین الاقوامی سکوک پروگرامز کے لیے عالمی بینکوں کے کنسورشیم کا اعلان کر دیا ہے۔ منگل کو فنانس ڈویژن سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی سے ویڈیو لنک کے ذریعے پاکستان کے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (جی ایم ٹی این ) اور بین الاقوامی سکوک پروگرام کے لیے منتخب …

اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):حکومت نے پاکستان کے جی ایم ٹی این(GMTN) اور بین الاقوامی سکوک پروگرامز کے لیے عالمی بینکوں کے کنسورشیم کا اعلان کر دیا ہے۔ منگل کو فنانس ڈویژن سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی سے ویڈیو لنک کے ذریعے پاکستان کے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (جی ایم ٹی این ) اور بین الاقوامی سکوک پروگرام کے لیے منتخب عالمی بینکوں کے کنسورشیم کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ورچوئل اجلاس منعقد کیا۔ یہ اجلاس حکومت اور منتخب مالیاتی اداروں کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کے باضابطہ آغاز کی علامت ہے۔حکومت پاکستان نے ریکویسٹ فار پروپوزلز (آر ایف پیز) میں طے شدہ معیار اور طریقہ کار کے مطابق مسابقتی عمل مکمل کرتے ہوئے یوروبانڈز، بین الاقوامی سکوک اور پاکستانی روپے میں جاری ہونے والے امریکی ڈالر سیٹلڈ بانڈز کے لیے عالمی بینکوں کے کنسورشیم کا انتخاب کر لیا ہے۔

منتخب کنسورشیم میں یوروبانڈز کے لیے سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک،سٹی بینک ، ڈوئچے بینک اے جی،ایمریٹس این بی ڈی کیپیٹل اور ایم یو ایف جی سکیورٹیز ایشیا لمیٹڈ شامل ہیں۔ بین الاقوامی سکوک کے لیے کنسوشیم میں سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، دبئی اسلامک بینک پی جے ایس سی، سٹی بینک ، ایمریٹس این بی ڈی کیپیٹل اور مشرق بینک پی ایس سی کو منتخب کیا گیا ہے جبکہ پاکستانی روپے میں جاری امریکی ڈالر سیٹلڈ بانڈز کے لیے کنسورشیم سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، سٹی بینک اور ڈوئچے بینک اے جی پر مشتمل ہو گا۔

یہ کنسورشیم تین سال کے لیے مقرر کیے گئے ہیں اور روایتی و اسلامی مالیاتی ذرائع کے تحت پاکستان کی خودمختار سرمایہ کاری مارکیٹ میں بانڈز اور سکوک کے اجرا میں معاونت کریں گے۔ تمام قانونی اور انتظامی تقاضے مکمل ہونے کے بعد حکومت اپنی مالیاتی حکمت عملی کے مطابق ضرورت پڑنے پر ان پلیٹ فارمز کو برائے کار لائے گی۔ یہ اقدام ایک وقتی فیصلہ نہیں بلکہ بیرونی مالیاتی وسائل کو مستحکم، متنوع اور پائیدار بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ پہلی مرتبہ ایم یو ایف جی سکیورٹیز ایشیا لمیٹڈ اور مشرق بینک کی شمولیت سے پاکستان کے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے

۔وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کی عالمی سرمایہ کاری منڈیوں میں واپسی بہتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال، مالیاتی نظم و ضبط، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، قرضوں کے استحکام اور جاری معاشی اصلاحات کے باعث ممکن ہوئی ہے، ان اقدامات سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کی عالمی مالیاتی ساکھ مزید مستحکم ہوئی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت کا مقصد صرف سرمایہ حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا متنوع، مارکیٹ پر مبنی مالیاتی پلیٹ فارم تشکیل دینا ہے جو سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ، قرض لینے کی لاگت میں کمی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری منڈیوں میں پاکستان کی طویل المدتی موجودگی کو مضبوط بنائے۔حکومت پاکستان نے منتخب عالمی بینکوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ یہ شراکت داری پاکستان کی خودمختار سرمایہ کاری اور مالیاتی منصوبوں کے کامیاب نفاذ میں اہم کردار ادا کرے گی۔

 

مزید خبریں