انشورنس نظام کو مضبوط بنانا موسمیاتی استحکام، سرمایہ کاری کی معاونت و پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، عدنان پاشا

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات کے مشیر عدنان پاشا نے پاکستان میں انشورنس کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور معیشت کو موسمیاتی و دیگر خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے مقررہ مدت میں عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے

اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات کے مشیر عدنان پاشا نے پاکستان میں انشورنس کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور معیشت کو موسمیاتی و دیگر خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے مقررہ مدت میں عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔فنانس ڈویژن کے مطابق انہوں نے یہ بات انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان (آئی اے پی) اور پاکستان سوسائٹی آف ایکچوریز (پی ایس او اے) کے اشتراک سے ’’استحکام سے مضبوطی تک: پاکستان میں انشورنس کے فروغ کے لیے پالیسی ایجنڈا‘‘ کے عنوان سے کراچی میں منعقدہ پہلی آئی اے پی اینڈ پی ایس او اے انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس 2026 سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔

کانفرنس کا افتتاح وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کیا جبکہ تقریب میں تقریباً 800 مندوبین نے شرکت کی۔پالیسی سازوں، انشورنس صنعت کے رہنمائوں، غیر ملکی ری انشوررز اور ایکچوریز، ترقیاتی شراکت داروں اور مالیاتی شعبے کے ماہرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی معاشی مضبوطی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی تیاری اور پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ میں انشورنس کے اہم کردار پر زور دیا۔پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے عدنان پاشا نے کہا کہ اگرچہ معاشی استحکام ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے تاہم پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ کاروباری اداروں، گھریلو صارفین اور معیشت کو موسمیاتی تبدیلیوں اور دیگر ابھرتے ہوئے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے موثر نظام تشکیل دیئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرات کا مسلسل سامنا کر رہا ہے جبکہ ملک میں انشورنس کا حجم اس وقت جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

انہوں نے انشورنس صنعت پر زور دیا کہ حکومت کے ساتھ مل کر آئندہ پانچ برسوں میں انشورنس کوریج کو جی ڈی پی کے 2 سے 3 فیصد تک بڑھانے کے لیے عملی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ انہوں نے اسے جدت، بہتر رسائی اور سازگار پالیسی ماحول کے ذریعے قابل حصول ہدف قرار دیا۔زراعت کو ترجیحی شعبہ قرار دیتے ہوئے عدنان پاشا نے انشورنس صنعت کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ پیرا میٹرک ایریا-ییلڈ انشورنس مصنوعات تیار کرے جنہیں حکومت کے ڈیجیٹل زرعی مالیاتی پلیٹ فارم زرخیز-ای (Zarkhez-e) کے ساتھ مربوط کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی انشورنس کسانوں کو موسمیاتی نقصانات سے تحفظ، مالی وسائل تک بہتر رسائی اور زرعی شعبے کی مضبوطی میں مدد دے سکتی ہے۔

انہوں نے پاکستان کے ڈیزاسٹر رسک فنانسنگ نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خودمختار پیرا میٹرک کلائمیٹ انشورنس فریم ورک کی تیاری پر بھی زور دیا۔ انہوں نے انشوررز، ری انشوررز اور ترقیاتی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی بہترین تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے ایسی جدید انشورنس مصنوعات تیار کریں جو سیلاب اور دیگر موسمیاتی آفات کی صورت میں فوری مالی معاونت فراہم کر سکیں۔انہوں نے انشورنس صنعت کو دعوت دی کہ وہ قانون سازی اور ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے حکومت کے ساتھ مل کر تجاویز مرتب کرے تاکہ شعبے میں جدت، سرمایہ کاری اور ترقی کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت صنعت کو سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے جبکہ صنعت کو انسانی وسائل کی استعداد بڑھانے اور نادرا، سپارکو اور LIMS جیسے موجودہ ڈیٹا پلیٹ فارمز سے استفادہ کرتے ہوئے نئی انشورنس مصنوعات متعارف کرانی چاہئیں۔ انہوں نے کانفرنس کے شرکا پر زور دیا کہ وہ کانفرنس کے اختتام پر مقررہ مدت پر مبنی عملی منصوبوں اور خصوصی ورکنگ گروپس کی تشکیل کے ساتھ سامنے آئیں تاکہ کانفرنس میں زیرِ بحث آنے والی اہم سفارشات پر پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ سال کی کانفرنس میں قابل پیمائش عمل درآمدی نتائج اور عملی اصلاحات کی صورت میں ٹھوس پیش رفت پیش کی جائے گی۔

حکومت کے انشورنس صنعت کے ساتھ قریبی تعاون کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عدنان پاشا نے کہا کہ پاکستان کے انشورنس نظام کو مضبوط بنانا موسمیاتی تبدیلی سے موثر انداز میں نمٹنے ، مالیاتی شمولیت اور مالیاتی سہولیات تک رسائی کے فروغ، سرمایہ کاری کی معاونت اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ شعبے کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور پاکستان کے لیے ایک زیادہ مضبوط مستقبل کی تعمیر کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں۔

 

مزید خبریں