آئی ایس ایس آئی کا جنوبی افریقہ کے قومی دن اور نیلسن منڈیلا کے عالمی دن کی یاد میں تقریب کا انعقاد

انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے سینٹر فار افغانستان مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ (کیمیا) نے پاکستان افریقہ انسٹی ٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ اینڈ ریسرچ کے اشتراک سے جنوبی افریقہ کے قومی دن اور نیلسن منڈیلا کے عالمی دن کی یاد میں ایک تقریب کا انعقاد کیا۔

اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے سینٹر فار افغانستان مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ (کیمیا) نے پاکستان افریقہ انسٹی ٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ اینڈ ریسرچ کے اشتراک سے جنوبی افریقہ کے قومی دن اور نیلسن منڈیلا کے عالمی دن کی یاد میں ایک تقریب کا انعقاد کیا۔تقریب کا آغاز پاکستان اور جنوبی افریقہ کے قومی ترانوں سے ہوا۔مقررین میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی سفیر معین الحق، چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس ایس آئی خالد محمود، سینیٹر مشاہد حسین سید، پاکستان کے جنوبی افریقہ میں ہائی کمشنر محمد فاروق اور ڈائریکٹر کیمیا ڈاکٹر آمنہ خان شامل تھے۔

اس موقع پر مہمان خصوصی جنوبی افریقہ کے پاکستان میں قائم مقام ہائی کمشنر روڈولف پیئر جورڈن جبکہ مہمانِ اعزاز ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ (افریقہ) وزارتِ خارجہ سفیر حامد اصغر خان تھے۔سفیر معین الحق نے جنوبی افریقہ کے قومی دن کی یاد منانے اور نیلسن منڈیلا کا عالمی دن منانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے گرم جوش اور دیرینہ تعلقات انصاف، آزادی، مساوات اور باہمی احترام کی مشترک اقدار پر مبنی ہیں۔ جنوبی افریقہ کی نسل پرستی کے خلاف جدوجہد میں پاکستان کی ثابت قدم حمایت کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے دوطرفہ اور کثیر الجہتی فورمز میں دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تعاون کو نمایاں کیا۔ نیلسن منڈیلا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے انہیں مفاہمت، ثابت قدمی اور اخلاقی جرات کی عالمی علامت قرار دیا جن کی پائیدار میراث آج بھی انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے اور پاکستان و جنوبی افریقہ کے مابین دوستی کے بندھن کو مضبوط کرتی ہے۔

قائم مقام ہائی کمشنر آر پیئر جورڈن نے جنوبی افریقہ کے قومی دن کے ساتھ نیلسن منڈیلا کا عالمی دن منانے پر آئی ایس ایس آئی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ موقع جنوبی افریقہ کے جمہوری سفر اور منڈیلا کی پائیدار میراث کا جشن ہے۔ انہوں نے منڈیلا کی انصاف، مساوات، مفاہمت اور انسانی وقار کے لیے عمر بھر کی جدوجہد کو اجاگر کیا اور انہیں امن کی عالمی علامت قرار دیا جن کی قیادت آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ 27 سال قید کے بعد تلخی کے بجائے معافی کے منڈیلا کے پیغام کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حقیقی قیادت مفاہمت، ہمدردی اور انسانیت کی خدمت میں ہے۔ آج کے عالمی چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بین الاقوامی قانون، کثیرالجہتی نظام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے زیادہ احترام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ منڈیلا کا وژن اس بات کی طاقتور یاد دہانی ہے کہ پائیدار امن صرف مکالمے، انصاف اور مشترکہ ذمہ داری سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے ’’لانگ واک ٹو فریڈم‘‘ سے منڈیلا کا قول نقل کرتے ہوئے کہا کہ ’’ابھی بھی ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم بھلائی کریں‘‘ اور سب کو ایک زیادہ منصفانہ، پرامن اور جامع دنیا کے لیے کام کرنے کی ترغیب دی۔ڈاکٹر آمنہ خان نے اپنے کلمات میں جنوبی افریقہ کے قومی دن اور نیلسن منڈیلا کے عالمی دن کی اہمیت کو آزادی، انصاف، مساوات اور مفاہمت کی اقدار کے جشن کے طور پر اجاگر کیا۔ انہوں نے نیلسن منڈیلا کی پائیدار میراث کو خراجِ تحسین پیش کیا اور نسل پرستی کے خلاف جدوجہد میں پاکستان کی دیرینہ حمایت کو یاد کیا جس میں منڈیلا کا 1992 میں پاکستان اور آئی ایس ایس آئی کا تاریخی دورہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے انگیج افریقہ پالیسی کے تحت پاکستان افریقہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کیمیا کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ جس طرح پاکستان جنوبی افریقہ کا قومی دن مناتا ہے اور نیلسن منڈیلا کا عالمی دن مناتا ہے، اسے جنوبی افریقہ کے انسانی حقوق اور عالمگیر آزادیوں کے عزم پر فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیلسن منڈیلا قائدِ اعظم محمد علی جناح کی تعریف کرتے تھے اور دونوں رہنماؤں میں اپنے عوام کے لیے آزادی کے حصول کے غیر متزلزل عزم میں مماثلت تھی۔ انہوں نے نسل پرستی کے خلاف جدوجہد میں پاکستان کی مالی اور سفارتی حمایت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ منڈیلا آزادی کی لازوال علامت ہیں۔ہائی کمشنر محمد فاروق نے نیلسن منڈیلا کی پائیدار میراث کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جدید جنوبی افریقہ کی کہانی ان کی انصاف، مساوات اور انسانی وقار کی جدوجہد سے الگ نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ منڈیلا کی اصل عظمت نہ صرف ظلم پر فتح میں تھی بلکہ ان کی دانائی، عاجزی اور مفاہمت کے عزم میں بھی تھی۔ نسل پرستی کے خلاف جدوجہد میں پاکستان کی ثابت قدم حمایت کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مضبوط تعلقات پر زور دیا اور کہا کہ منڈیلا پاکستانی عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔

انہیں انسانیت، آزادی اور انصاف کے لیے غیر معمولی خدمات پر پاکستان کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈز سے بھی نوازا گیا تھا۔سفیر حامد اصغر خان نے نیلسن منڈیلا کی پائیدار میراث پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کی قیادت کا موازنہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کی بصیرت پر مبنی قیادت سے کیا۔ نسل پرستی کے خلاف جدوجہد میں پاکستان کی ثابت قدم حمایت کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان-جنوبی افریقہ تعلقات کی بنیاد بننے والی انصاف، آزادی اور جنوب-جنوب تعاون کی مشترک اقدار کو اجاگر کیا۔

انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت اور تعلیم کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات میں موجود وسیع امکانات کو بروئے کار لانے کے لیے اعلیٰ سطح کی سیاسی مشغولیت بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اپنے اختتامی کلمات میں سفیر خالد محمود نے امن، انصاف اور مفاہمت کی نیلسن منڈیلا کی پائیدار میراث کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پاکستان اور جنوبی افریقہ کی دیرینہ دوستی کا اعادہ کیا اور اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے باہمی فائدے کے لیے دوطرفہ تعاون مزید بڑھتا رہے گا۔

 

مزید خبریں