وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے ایرانی وزیرسائنس ڈاکٹر حسین سیمائی صراف کی ملاقات، اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق
وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے ایرانی وزیرسائنس ڈاکٹر حسین سیمائی صراف کی ملاقات، اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے ایران کے وزیرِ سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی ڈاکٹر حسین سیمائی صراف نے د ورۂ پاکستان کے موقع پر ملاقات کی۔ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور تعلیم، سائنس، تحقیق، اختراع اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے معزز ایرانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی اور قریبی تعلقات کو سراہا۔ دونوں فریقین نے تعلیمی تعاون میں ہونے والی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان روابط کو مزید فروغ دیا جائے گاتاکہ طلبہ، اساتذہ، محققین اور علمی برادری کو اس سے بھرپور فائدہ پہنچ سکے۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور ایران کی اعلیٰ تعلیمی جامعات بالخصوص نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) کے درمیان موجود مفاہمتی یادداشتوں پر کامیاب عمل درآمد کو سراہا گیا۔ دونوں ممالک نے دیگر جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان بھی اسی نوعیت کے تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
دونوں وزرا نے اساتذہ کی تربیت، نصاب کی تیاری و ترقی، ڈیجیٹل تعلیم، مصنوعی ذہانت، تعلیمی ٹیکنالوجی، تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلوں، علمی کانفرنسوں، اختراعی منصوبوں اور وظائف کے پروگراموں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ اس موقع پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ علمی اور تحقیقی اشتراک دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کو مزید مضبوط بنائے گا اور خطے میں علم و تحقیق کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔وفاقی وزیر نے پاکستان۔ایران مشترکہ کمیشن کے تحت تعلیم سے متعلق فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد کے لیے حکومتِ پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مشترکہ وژن کو عملی اقدامات اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں کے درمیان مستقل روابط اور باہمی اشتراک سے مشترکہ چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکتا ہے اور سائنسی و تکنیکی ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر حسین سیمائی صراف نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور اس یقین کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے تعلیمی اور سائنسی اداروں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ تحقیق، اختراع اور علمی ترقی کے ذریعے خطے کی پائیدار ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ایران تعلیم، سائنس، تحقیق اور اختراع کے شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھیں گے، نئی شراکت داریوں کو فروغ دیں گے اور عوامی روابط، علمی تبادلوں اور پائیدار ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے مل کر کام کریں گے۔ دونوں وزرا نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس دورے کے نتائج پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ دوستی اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔







