آبی مور اور جنگلات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث مون سون کے موسم میں پاکستان کو سیلاب کے شدید خطرات کا سامنا ہے، جس کے ملک کے اہم دریاؤں کے نظام کے ساتھ رہنے والے لاکھوں افراد، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کےلیے انتہائی تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باعث پاکستان کو سیلاب کے شدید خطرات کا سامنا ہے، ماہرین

مزید خبریں
پشاور۔ 21 جولائی (اے پی پی):آبی مور اور جنگلات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث مون سون کے موسم میں پاکستان کو سیلاب کے شدید خطرات کا سامنا ہے، جس کے ملک کے اہم دریاؤں کے نظام کے ساتھ رہنے والے لاکھوں افراد، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کےلیے انتہائی تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔ قومی خبر رساں ادارے "اے پی پی” سے گفتگو کرتے ہوئے آبی امور کے ماہر اور سابق چیف فارسٹ ڈاکٹر نیاز علی نے کہا کہ شدید بارشوں کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں موجود ذخائر سے غیر معمولی یا ضرورت سے زیادہ پانی کا اخراج پاکستان کے زیریں علاقوں میں سیلاب کے خطرات کو کافی حد تک بڑھا سکتا ہے۔
ڈاکٹر نیاز علی نے کہا کیا کہ مون سون کے دوران شدید بارشیں ڈیموں اور بالخصوص بالائی علاقوں میں واقع ذخائر پر غیر معمولی دباؤ ڈالتی ہیں۔اگر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بروقت ہم آہنگی و معلومات کے تبادلے کے بغیر زیادہ پانی چھوڑا جاتا ہے تو پاکستان کے زیریں علاقوں کو شدید سیلاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس سے لاکھوں افراد کے متاثر اور بے گھر ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریاؤں کے بہاؤ میں اچانک اضافے سے پنجاب اور سندھ کے نشیبی اضلاع میں سیلاب آ سکتا ہے جس سے کھڑی فصلوں، مویشیوں، آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، پلوں اور رہائشی علاقوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ انوائرمینٹل سائنس کے سابق چیئرمین ڈاکٹر سلیم الرحمن نے کہا کہ بڑے سیلاب کی تباہ کاریاں بہت وسیع ہوتی ہیں۔
اچانک سیلاب زرعی پیداوار کو معطل کر سکتا ہے، کئی بستیوں کو بے گھر کر سکتا ہے، عوامی بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور پاکستان میں متاثرہ آبادی کےلیے فوڈ سیکیورٹی کے شدید چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ڈاکٹر سلیم نے سندھ طاس معاہدے کو ایک انتہائی اہم معاہدہ قرار دیا جس نے سیاسی کشیدگی اور مسلح تنازعات کے ادوار کے باوجود چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کو منظم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ آبی سلامتی کی حیثیت رکھتا ہے، یہ جنگوں اور طویل سفارتی بحرانوں کے باوجود برقرار رہا کیونکہ دونوں ممالک نے بلا تعطل آبی تعاون کو یقینی بنانے کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ حالیہ قانونی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر نیاز علی نے موقف اختیار کیا کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل نہیں رکھ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ثالثی عدالت کے حالیہ اہم فیصلے نے تاریخی معاہدے کے مسلسل نفاذ کی توثیق کی ہے اور اس اصول کو مضبوط کیا ہے کہ کوئی بھی فریق اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ثالثی عدالت کے فیصلے نے پاکستان کے قانونی موقف کو مضبوط کیا ہے کہ معاہدہ نافذ العمل ہے۔ اس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تنازعات کو یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کے بجائے تاریخی معاہدے کے تحت فراہم کردہ میکانزم کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری بالخصوص عالمی بینک، جو اس معاہدے کا ضامن ہے، پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کو بچانے کے لیے فعال کردار ادا کرے اس سے پہلے کہ یہ خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے ضامن کے طور پر عالمی بینک کی ایک تاریخی ذمہ داری ہے۔ معاہدے کے مکمل نفاذ کی بحالی نہ صرف علاقائی آبی سلامتی کے لیے بلکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، استحکام اور اقتصادی خوشحالی کے لیے بھی اہم ہے۔ ماحولیات کے ماہرین نے طویل عرصے سے اس بات پر زور دیا ہے کہ سیلاب کے موثر انتظام کےلیے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کا پیشگی تبادلہ، ذخائر کے منظم آپریشنز اور بالائی اور زیریں ممالک کے درمیان مسلسل رابطے کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر مون سون کے موسم کے دوران جب دریاؤں کے بہاؤ میں مختصر مدت کے اندر ڈرامائی طور پر اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آفت سے نمٹنے کی تیاریوں کو مضبوط بنانے، حساس آبادیوں کی حفاظت کرنے اور خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں سے جڑے مسلسل غیر یقینی موسمی پیٹرنز سے وابستہ خطرات کو کم کرنے کےلیے معاہدے کا بلا تعطل نفاذ ضروری ہے۔







