ایم ایل ون منصوبہ فیلڈ سروے اور ڈیزائننگ کے حتمی مرحلے میں داخل، انٹرنیشنل کنسلٹنٹ کمپنی سے معاہدہ طے، سروے رپورٹس کا تبادلہ شروع

ایم ایل ون منصوبہ فیلڈ سروے اور ڈیزائننگ کے حتمی مرحلے میں داخل، انٹرنیشنل کنسلٹنٹ کمپنی سے معاہدہ طے، سروے رپورٹس کا تبادلہ شروع

اسلام آباد۔22جولائی (اے پی پی):ملک کے سب سے بڑے ریلوے انفراسٹرکچر منصوبے مین لائن ون (ایم ایل ون) پر عملی اور تکنیکی کام کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے اور منصوبہ فیلڈ سروے اور ڈیزائننگ کے حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں پیش کی گئی ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے تعاون اور دیگر مالیاتی حکمت عملیوں پر مشتمل 38 اہم نکات پر مبنی تفصیلی رپورٹ کے مطابق منصوبے کو محفوظ بنانے اور فنڈز کی شفاف فراہمی کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کر لی ہیں۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم پاکستان کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور کی سربراہی میں یہ خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کا بنیادی مقصد ریلوے انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے لیے فنڈنگ کے موثر ذرائع اور حکمت عملیاں وضع کرنا تھا۔اس اہم کمیٹی میں ملک کے کلیدی اداروں اور وزارتوں کے نمائندے شامل کیے گئے ہیں جن میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی)، وزارت ریلوے، وزارت منصوبہ بندی و ترقی، فنانس ڈویژن، نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی شامل ہیں۔

کمیٹی کو ٹاسک دیا گیا تھا کہ وہ ایک ماہ کے اندر اپنی سفارشات حتمی شکل دے کر وزیر اعظم کو پیش کرے جبکہ وزارت ریلوے کو سیکرٹریٹ سپورٹ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ کمیٹی کے طے شدہ ضوابط کے تحت ایم ایل ون منصوبے کے لیے فوری فنڈنگ کے آپشنز تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ ’’رنگ فینسنگ‘‘ کا ماڈل تیار کیا گیا ہے تاکہ ایم ایل ون کے ریونیو کو صرف اسی منصوبے کی پائیداری کے لیے مخصوص رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ دیگر وفاقی وزارتوں کے منصوبوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی گئی ہے تاکہ فنڈز ڈوبلیکیشن سے بچا جا سکے اور دیگر سٹرٹیجک نوعیت کے منصوبوں کو بھی شامل بحث لایا جا سکے۔ تمام قانونی اور ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد 5 جون 2026ء کو معروف بین الاقوامی کنسلٹنٹ کمپنی میسرز ڈوہا انجینئرنگ کے ساتھ باقاعدہ معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

اس معاہدے کے فوری بعد 15 جون 2026ء کو ماحولیاتی و سماجی سروے کا پہلا ڈرافٹ اور ڈیزائن بیسز رپورٹ کنسلٹنٹ کے ساتھ شیئر کر دی گئی ہے اور اس وقت کنسلٹنٹ کمپنی منصوبے کی انسیپشن رپورٹ پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔ کمیٹی نے پپری پروجیکٹ اور ایم ایل ون کے تمام پیکیجز پر تفصیلی بریفنگ طلب کرتے ہوئے تمام سٹیک ہولڈرز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے فریم ورک کے مطابق منصوبے کی ٹائم لائن کو یقینی بنائیں۔

کمیٹی کی ان سفارشات اور حالیہ تکنیکی معاہدوں کے بعد ایم ایل ون منصوبہ اب محض فائلوں تک محدود نہیں رہا بلکہ فیلڈ سروے اور ڈیزائننگ کے حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ ایس آئی ایف سی اور عسکری و سول اداروں کی مشترکہ نگرانی کے باعث اس منصوبے کو سی پیک اور نان سی پیک دونوں فنڈنگ ماڈلز کے تحت چلانے کی حکمت عملی واضح ہو چکی ہے جس سے پاکستان ریلوے میں ایک نئے انقلاب کی راہ ہموار ہوگی۔

مزید خبریں
اپوزیشن لیڈر جی بی حفیظ الرحمٰن
اپوزیشن لیڈر جی بی حفیظ الرحمٰن کا بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ پر اظہارِ تشویش، کھچی شاہراہ فوری بحال کرنے کا مطالبہ استور 22 جولائی (اے پی پی):سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان، صوبائی صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور قائدِ حزبِ اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی حافظ حفیظ الرحمٰن نے گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں، سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت گلگت بلتستان اور تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کریں اور عوام کو درپیش مشکلات کے فوری ازالے کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔انہوں نے کہا کہ ضلع استور کے علاقے کھچی میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مرکزی شاہراہ مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ بھاری مشینری فوری طور پر متاثرہ مقام پر پہنچائی جائے اور سڑک کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کی مشکلات میں جلد از جلد کمی لائی جا سکے۔حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کے باعث نہ صرف مقامی افراد بلکہ ملک بھر اور بیرونِ ملک سے بڑی تعداد میں سیاح گلگت بلتستان کا رخ کر رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شاہراہوں کی بحالی، ٹریفک مینجمنٹ، ریسکیو سروسز، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ سیاحوں اور مقامی آبادی کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔\378