چینی وزیر خارجہ کی ملائیشیا،آسٹریلیا وکینیڈا کے ہم منصبوں اور آسیان کے سیکرٹری جنرل سے ملاقاتیں،باہمی دلچسپی کے امور بارے تبادلہ خیال کیا

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے منیلا میں ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن، آسیان کے سیکرٹری جنرل کاؤ کم ہورن، آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ اور کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند سے الگ الگ ملاقاتیں کیں

بیجنگ ۔22جولائی (اے پی پی):چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے منیلا میں ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن، آسیان کے سیکرٹری جنرل کاؤ کم ہورن، آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ اور کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔سی جی ٹی این کے مطابق بدھ کو ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن سے ملاقات کے دوران وانگ یی نے کہا کہ چین ملائیشیا کے ساتھ تمام سطحوں پر قریبی روابط برقرار رکھنے، جامع تعاون کو مزید گہرا کرنے، بحری شعبے میں تبادلوں اور تعاون کو فروغ دینے اور چین- ملائیشیا تعلقات کو مشترکہ طور پر نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے تیار ہے۔ محمد حسن نے کہا کہ چین ملائیشیا کا قابل اعتماد دوست اور شراکت دار ہے، ملائیشیا ون چائنا پالیسی پر مضبوطی سے قائم ہے اور آسیان چین تعاون کو مکمل طور پر فروغ دے گا۔ آسیان کے سیکرٹری جنرل کاؤ کم ہورن سے ملاقات کے دوران وانگ یی نے کہا کہ چین ہمیشہ خوشگوار ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کی پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے، رواں سال چین اور آسیان کے درمیان جامع تزویراتی شراکت داری کے قیام کی پانچویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ وانگ یی نے کہا کہ چین آسیان کے ساتھ مل کر بحیرہ جنوبی چین کے ضابطہ اخلاق سے متعلق مشاورت کو تیز کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ بحیرہ جنوبی چین کے مسئلے کو متعلقہ فریقوں کے درمیان براہ راست مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ کاؤ کم ہورن نے علاقائی تعاون کے ڈھانچے میں آسیان کے مرکزی کردار کے لیے چین کی مضبوط حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ چین آسیان کا سب سے اہم جامع تزویراتی شراکت دار ہے اور آسیان چین کے ساتھ مل کر علاقائی امن و استحکام کے تحفظ اور ایشیا بحرالکاہل کی ترقی و خوشحالی کو فروغ دینے میں مزید اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ سے ملاقات کے دوران وانگ یی نے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کی مشترکہ رہنمائی میں چین -آسٹریلیا تعلقات بہتری اور ترقی کی درست راہ پر گامزن ہیں، چین آسٹریلیا کے ساتھ باہمی اعتماد کو فروغ دینے اور دوطرفہ تعلقات میں مسلسل پیش رفت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آسٹریلیا اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر قائم رہتے ہوئے دوہرے معیار کو ترک کرے گا اور چین کے ساتھ مل کر دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے رجحان کو برقرار رکھے گا۔ پینی وونگ نے کہا کہ آسٹریلیا ون چائنا پالیسی پر مضبوطی سے قائم ہے اور تائیوان کی علیحدگی کی حمایت نہیں کرتا۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند سے ملاقات کے دوران وانگ یی نے کہا کہ رواں سال کے آغاز سے چین کینیڈا تعلقات میں بہتری آئی ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے، حقائق نے ثابت کیا ہے کہ چین کینیڈا تعلقات کی بہتری اور ترقی دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے اور یہ ایک درست تاریخی انتخاب ہے۔ انیتا آنند نے کہا کہ کینیڈا ون چائنا پالیسی پر مضبوطی سے قائم ہے اور چین کے ساتھ اعلیٰ سطحی تبادلوں کو مزید مضبوط بنانے، اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنے اور کینیڈا چین تعلقات کی طویل مدتی، صحت مند اور مستحکم ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔

مزید خبریں
اپوزیشن لیڈر جی بی حفیظ الرحمٰن
اپوزیشن لیڈر جی بی حفیظ الرحمٰن کا بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ پر اظہارِ تشویش، کھچی شاہراہ فوری بحال کرنے کا مطالبہ استور 22 جولائی (اے پی پی):سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان، صوبائی صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور قائدِ حزبِ اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی حافظ حفیظ الرحمٰن نے گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں، سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت گلگت بلتستان اور تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کریں اور عوام کو درپیش مشکلات کے فوری ازالے کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔انہوں نے کہا کہ ضلع استور کے علاقے کھچی میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مرکزی شاہراہ مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ بھاری مشینری فوری طور پر متاثرہ مقام پر پہنچائی جائے اور سڑک کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کی مشکلات میں جلد از جلد کمی لائی جا سکے۔حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کے باعث نہ صرف مقامی افراد بلکہ ملک بھر اور بیرونِ ملک سے بڑی تعداد میں سیاح گلگت بلتستان کا رخ کر رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شاہراہوں کی بحالی، ٹریفک مینجمنٹ، ریسکیو سروسز، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ سیاحوں اور مقامی آبادی کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔\378