پنجاب حکومت تین سالہ پنجاب اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت سرگودھا، اوکاڑہ، خانیوال اور بھکر میں چار ایگرو پراسیسنگ پارک کلسٹرز قائم کرنے کے لیے 60 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گی
پنجاب میں 60 ارب روپے سے چار جدید ایگرو پراسیسنگ پارکس قائم کیے جائیں گے

مزید خبریں
لاہور۔22جولائی (اے پی پی):پنجاب حکومت تین سالہ پنجاب اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت سرگودھا، اوکاڑہ، خانیوال اور بھکر میں چار ایگرو پراسیسنگ پارک کلسٹرز قائم کرنے کے لیے 60 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گی۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ان چاروں کلسٹرز میں مشترکہ کولڈ چین سہولتیں، سرٹیفکیشن خدمات اور کاروباری انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے گا جس سے 500 سے زائد کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے مواقع ملیں گے اور تقریباً 20 ہزار براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ہر ایگرو پراسیسنگ پارک 250 ایکڑ رقبے پر قائم کیا جائے گا جس پر حکومت 15 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گی۔یہ پارکس اہم زرعی پیداوار والے علاقوں کے قریب قائم کیے جائیں گے جن میں سرگودھا کا ترش پھلوں کا علاقہ، اوکاڑہ کا آلو پیدا کرنے والا خطہ اور جنوبی پنجاب خصوصاً ملتان کے گرد و نواح کے آم پیدا کرنے والے علاقے شامل ہیں۔پارکس میں فصل کی کٹائی سے قبل اور بعد کی جدید پراسیسنگ سہولتیں فراہم کی جائیں گی جن میں سورٹنگ اور گریڈنگ یونٹس، لیبارٹریاں، سرٹیفکیشن خدمات، کولڈسٹوریج، لاجسٹکس انفراسٹرکچر، استعداد کار بڑھانے اور معلوماتی مراکز، نیز کاروباری معاونت کی سہولتیں شامل ہوں گی۔
نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے حکومت مختلف صنعتی مراعات فراہم کرے گی جن میں درآمد شدہ پلانٹ، مشینری اور آلات پر عائد ڈیوٹی کی واپسی کے لیے 50 ارب روپے کا خصوصی فنڈ بھی شامل ہے۔یہ پارکس کینو اور آم کی مکمل ویلیو چین کی معاونت کریں گے جس میں فارم سے پیداوار کی وصولی، سورٹنگ، گریڈنگ، پیکنگ، پالشنگ، ویکسنگ، نیز پلپ، پیوری اور جام کی تیاری شامل ہوگی۔آلو کی پراسیسنگ سہولتوں میں فارم سے خریداری، گریڈنگ، کولڈ سٹوریج اور ڈی ہائیڈریٹڈ پوٹیٹو فلیکس، فروزن فرائز اور پوٹیٹو چپس کی تیاری تک پوری ویلیو چین شامل ہوگی۔حکومتی اندازوں کے مطابق اس منصوبے سے 20 ارب روپے سے زائد نجی سرمایہ کاری متوقع ہے جبکہ 500 سے زائد کمپنیاں پروگرام کے تحت دی جانے والی مراعات سے مستفید ہوں گی۔دستاویزات کے مطابق ایگرو پراسیسنگ پارکس کے ذریعے 40 ہزار ٹن ویلیو ایڈڈ کینو اور آم کی مصنوعات جبکہ 50 ہزار ٹن ویلیو ایڈڈ آلو کی مصنوعات برآمد کی جا سکیں گی۔اس منصوبے کے تحت 20 ویلیو ایڈیشن یونٹس قائم کیے جائیں گے، برآمدات سے سالانہ تقریباً 20 کروڑ امریکی ڈالر کی اضافی آمدنی حاصل ہونے کی توقع ہے جبکہ خام زرعی برآمدات میں بھی 5 فیصد اضافہ متوقع ہے۔








