مالی سال 2025-26 میں سویا بین آئل کی درآمدات میں 68.41 فیصد کمی

مالی سال 26۔2025 میں ملک میں سویا بین آئل کی درآمدات میں 68.41 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ادارہ برائے شماریات پاکستان کے جاری اعداد و شمار کے مطابق 30 جون 2026ء کو ختم ہونے والے مالی سال 26۔2025 کے دوران ملک میں سویا بین آئل کی درآمدات میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 68.41 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

اسلام آباد۔22جولائی (اے پی پی):مالی سال 26۔2025 میں ملک میں سویا بین آئل کی درآمدات میں 68.41 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ادارہ برائے شماریات پاکستان کے جاری اعداد و شمار کے مطابق 30 جون 2026ء کو ختم ہونے والے مالی سال 26۔2025 کے دوران ملک میں سویا بین آئل کی درآمدات میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 68.41 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ جولائی 2025ء تا جون 2026ء کے دوران 97521 میٹرک ٹن سویا بین آئل درآمد کیا گیا جس کی مالیت 108.683 ملین ڈالر رہی جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 321211 میٹرک ٹن سویا بین آئل درآمد کیا گیا جس کی مالیت 344.026 ملین ڈالر تھی۔

اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 26 ۔2025 کے دوران ملک میں 3.785 ارب ڈالر مالیت کا 3.482 ملین میٹرک ٹن پام آئل بھی درآمد کیا گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 3.21 ملین میٹرک ٹن پام آئل درآمد کیا گیا جس کی مالیت 3.394 ارب ڈالر تھی۔اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26 ۔2025 کے دوران ملک کی غذائی مصنوعات کی مجموعی درآمدات میں 11.66 فیصد اضافہ ہوا، اس عرصے میں 9.150 ارب ڈالر مالیت کی مختلف غذائی اشیاء درآمد کی گئیں جبکہ مالی سال 25۔2024 میں یہ درآمدات 8.195 ارب ڈالر رہی تھیں۔

دوسری جانب مالی سال 26 ۔2025 کے دوران غذائی مصنوعات کی برآمدات 5.017 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جبکہ مالی سال 25۔2024 کے دوران غذائی مصنوعات کی برآمدات 7.116 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔

مزید خبریں
اپوزیشن لیڈر جی بی حفیظ الرحمٰن
اپوزیشن لیڈر جی بی حفیظ الرحمٰن کا بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ پر اظہارِ تشویش، کھچی شاہراہ فوری بحال کرنے کا مطالبہ استور 22 جولائی (اے پی پی):سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان، صوبائی صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور قائدِ حزبِ اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی حافظ حفیظ الرحمٰن نے گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں، سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت گلگت بلتستان اور تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کریں اور عوام کو درپیش مشکلات کے فوری ازالے کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔انہوں نے کہا کہ ضلع استور کے علاقے کھچی میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مرکزی شاہراہ مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ بھاری مشینری فوری طور پر متاثرہ مقام پر پہنچائی جائے اور سڑک کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کی مشکلات میں جلد از جلد کمی لائی جا سکے۔حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کے باعث نہ صرف مقامی افراد بلکہ ملک بھر اور بیرونِ ملک سے بڑی تعداد میں سیاح گلگت بلتستان کا رخ کر رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شاہراہوں کی بحالی، ٹریفک مینجمنٹ، ریسکیو سروسز، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ سیاحوں اور مقامی آبادی کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔\378