فیصل آباد۔ 22 جولائی (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن یاسر عمر نے کہا ہے کہ دھان کی فصل پر سفید، زرد اور گلابی اسٹیم بورر (بوررز) کے حملے میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے باعث کسان بروقت حفاظتی اور انسدادی اقدامات اختیار کریں تاکہ فصل کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ جولائی 2026 کے دوسرے ہفتے کی پیسٹ سرویلنس …
دھان کی فصل پر بوررز کے حملے میں اضافہ کے باعث کسان بروقت حفاظتی اقدامات کریں، ترجمان محکمہ زراعت

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 22 جولائی (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن یاسر عمر نے کہا ہے کہ دھان کی فصل پر سفید، زرد اور گلابی اسٹیم بورر (بوررز) کے حملے میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے باعث کسان بروقت حفاظتی اور انسدادی اقدامات اختیار کریں تاکہ فصل کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ جولائی 2026 کے دوسرے ہفتے کی پیسٹ سرویلنس رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھان کے بوررز اس وقت فصل کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ موجودہ گرم اور مرطوب موسم کے ساتھ دھان کی فصل کی بڑھوتری کا مرحلہ ان کیڑوں کی افزائش اور حملے میں تیزی کے لیے انتہائی موزوں ہے، اس لیے معمولی غفلت بھی پیداوار میں نمایاں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کاشتکار اپنے کھیتوں کا باقاعدگی سے معائنہ کریں اور فصل میں بورر کے حملے کی ابتدائی علامات جیسے سوکھے ہوئے پتے (ڈیڈ ہارٹ) اور بعد ازاں سفید خوشے (وائٹ ہیڈ) ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر محکمہ زراعت کے مقامی عملے یا زرعی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔
غیر ضروری یا اندھا دھند زرعی زہروں کے استعمال سے گریز کیا جائے اور صرف محکمہ زراعت کی سفارش کردہ اور رجسٹرڈ زرعی ادویات ہی مناسب مقدار اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق استعمال کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ کھیتوں کی مسلسل نگرانی، متوازن کھادوں کا استعمال، مناسب آبپاشی، جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی اور مربوط انسدادِ ضرر رساں کیڑوں (IPM) کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے دھان کی فصل کو بوررز کے شدید حملے سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ محکمہ زراعت پنجاب کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی غیر معمولی صورتحال یا کیڑوں کے بڑھتے ہوئے حملے کی فوری اطلاع متعلقہ زرعی دفتر کو دیں تاکہ بروقت تکنیکی معاونت فراہم کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کی فیلڈ ٹیمیں مسلسل پیسٹ سکاؤٹنگ اور سرویلنس کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں اور کسانوں کو بروقت رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کاشتکار محکمہ کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے اپنی فصل کو نقصان سے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور بہتر پیداوار حاصل کر سکتے ہیں۔







