اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی)کے زیر اہتمام بدھ کو یہاں ایچ ای سی سیکرٹریٹ میں ’’معیاری کمپیوٹنگ تعلیم اور مستقبل کی مہارتیں‘‘ کے موضوع پر قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں پالیسی سازوں، جامعات کے وائس چانسلرز، ماہرین تعلیم، صنعت کے نمائندوں، منظوری دینے والے اداروں، ٹیکنالوجی ماہرین اور طلبہ نے شرکت کی۔
ایچ ای سی کے زیر اہتمام ’’معیاری کمپیوٹنگ تعلیم اور مستقبل کی مہارتیں‘‘ کے موضوع پر قومی ورکشاپ کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔22جولائی (اے پی پی):اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی)کے زیر اہتمام بدھ کو یہاں ایچ ای سی سیکرٹریٹ میں ’’معیاری کمپیوٹنگ تعلیم اور مستقبل کی مہارتیں‘‘ کے موضوع پر قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں پالیسی سازوں، جامعات کے وائس چانسلرز، ماہرین تعلیم، صنعت کے نمائندوں، منظوری دینے والے اداروں، ٹیکنالوجی ماہرین اور طلبہ نے شرکت کی۔
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ایچ ای سی کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کا مستقبل معیاری کمپیوٹنگ تعلیم سے وابستہ ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے ڈیجیٹل تبدیلی کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایچ ای سی کمپیوٹنگ نصاب 2025 کے نفاذ، مصنوعی ذہانت کو تعلیمی پروگراموں میں شامل کرنے، نتائج پر مبنی تعلیم کے فروغ اور قومی مہارتی استعداد جانچ کے موثر نفاذ کے ذریعے طلبہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، صنعت سے ہم آہنگی اور روزگار کے مواقع بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
ایچ ای سی کے رکن برائے تحقیق، ترقی اور جدت پروفیسر ڈاکٹر حبیب بخاری نے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ ورکشاپ کا مقصد طلبہ، والدین، جامعات اور صنعت کو معیاری کمپیوٹنگ تعلیم، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، مستقبل کی مہارتوں اور روزگار کے نئے مواقع سے آگاہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی کمپیوٹنگ نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے، جامعات اور صنعت کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنے، معیار کی یقین دہانی کے نظام کو مزید موثر بنانے اور نوجوانوں کو ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔تقریب کے مہمان خصوصی وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ایڈیشنل سیکرٹری حسن ثقلین تھے۔ ورکشاپ میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ، پاکستان سافٹ ویئر ہائوسز ایسوسی ایشن، قومی کمپیوٹنگ تعلیمی منظوری کونسل، ورچوئل یونیورسٹی، مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، طلبہ اور ایچ ای سی کے حکام نے شرکت کی۔
ورکشاپ کے دوران ایچ ای سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر نصاب ہدایت اللہ کاسی کی نظامت میں ایک مباحثہ بھی ہوا جس میں صنعت کو درکار مہارتوں، کمپیوٹنگ نصاب کو جدید ٹیکنالوجیز اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے، منظوری اور معیار کی یقین دہانی کے نظام کو مضبوط کرنے، اساتذہ کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے، صنعتی اشتراک، تحقیقی تعاون، انٹرن شپ، اختتامی منصوبوں اور پیشہ ورانہ اسناد کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکا نے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلائوڈ کمپیوٹنگ، سافٹ ویئر انجینئرنگ، ڈیٹا سائنس اور ڈیجیٹل جدت کے شعبوں میں جامعات اور صنعت کے درمیان روابط مزید مستحکم کرنے، نصاب کا مسلسل جائزہ لینے، اساتذہ کی تربیت اور عملی تعلیم کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ ورکشاپ کے اختتام پر مہمان خصوصی، مقررین اور دیگر نمایاں شرکا میں تعریفی شیلڈز تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر قومی مہارتی استعداد جانچ 2026 میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 17 بہترین طلبہ کو بھی شیلڈز اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا تاکہ علمی قابلیت، جدت اور بہترین کارکردگی کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔







