ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان سے پارلیمنٹ ہاؤس میں بلوچستان سے رکن صوبائی اسمبلی حاجی فضل قادر مندوخیل، سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری اور ان کی اہلیہ، معروف قبائلی عمائدین، ممتاز تاجر رحمت السلام خٹک، وکلا، ڈاکٹرز، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان سے حاجی فضل قادر ، فواد چوہدری، قبائلی عمائدین اور دیگر وفود کی ملاقاتیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔22جولائی (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان سے پارلیمنٹ ہاؤس میں بلوچستان سے رکن صوبائی اسمبلی حاجی فضل قادر مندوخیل، سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری اور ان کی اہلیہ، معروف قبائلی عمائدین، ممتاز تاجر رحمت السلام خٹک، وکلا، ڈاکٹرز، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔بدھ کو سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق ملاقاتوں کے دوران ملکی و علاقائی صورتحال، موجودہ سیاسی و معاشی حالات، پارلیمنٹ کے کردار، قانون سازی کے عمل، قومی یکجہتی، وفاقی اکائیوں کے درمیان ہم آہنگی، عوامی فلاح و بہبود، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں جاری و مجوزہ منصوبوں، نوجوانوں کو درپیش مسائل اور ترقیاتی ترجیحات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے کہا کہ سینیٹ وفاق کی علامت اور تمام اکائیوں کے درمیان اعتماد، ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کا اہم ترین آئینی ادارہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا بنیادی مقصد ایسی مؤثر قانون سازی کو یقینی بنانا ہے جو عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرے، اداروں کو مضبوط بنائے اور ملک کو سیاسی، معاشی اور سماجی استحکام کی جانب لے کر جائے۔انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کے بنیادی ستون ہیں، لہٰذا ان شعبوں میں سرمایہ کاری، جدید سہولیات کی فراہمی اور نوجوان نسل کو معیاری تعلیم و ہنر سے آراستہ کرنا قومی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان سمیت ملک کے تمام پسماندہ علاقوں کی متوازن ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور نوجوانوں کو مساوی مواقع فراہم کرنا پائیدار قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ملاقاتوں کے دوران خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور بین الاقوامی سیاسی منظرنامے پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی امن، تعمیری سفارت کاری، باہمی احترام، علاقائی استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے اصولوں پر استوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ اختلافات اور تنازعات کے حل کے لیے مکالمے، سفارت کاری، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کو بنیاد بنایا جائے تاکہ خطے میں دیرپا امن اور ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں اقتصادی تعاون، تجارتی روابط، علاقائی رابطہ کاری اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور تمام دوست ممالک کے ساتھ باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر مظہر کی بلاامتیاز مذمت کرتا ہے اور عالمی امن، بین المذاہب ہم آہنگی، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے اپنا مثبت اور ذمہ دارانہ کردار جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں پارلیمانی سفارت کاری ریاستوں کے درمیان اعتماد سازی، مؤثر مکالمے اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے، اور سینیٹ آف پاکستان اس ضمن میں اپنی آئینی اور قومی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں نبھا رہی ہے۔
وفود کے شرکاء نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی پارلیمانی خدمات، عوامی مسائل کے حل کے لیے ان کی کاوشوں اور قومی معاملات پر ان کے مؤقف کو سراہتے ہوئے مختلف قومی، علاقائی اور عوامی مسائل سے متعلق اپنی تجاویز پیش کیں۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے وفود کی آراء کا خیرمقدم کرتے ہوئے یقین دلایا کہ عوامی مفاد سے متعلق تمام تجاویز کو متعلقہ فورمز پر مؤثر انداز میں اٹھایا جائے گا اور عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے سینیٹ اپنا آئینی اور جمہوری کردار پوری ذمہ داری سے ادا کرتی رہے گی۔







