ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے وزیر اعظم کی ہدایات کی روشنی میں خیبرپختونخوا کی سرکاری اور نجی جامعات میں کمپیوٹنگ کے تعلیمی پروگراموں کا کوالٹی اشورنس جائزہ مکمل کر لیا ہے جس کا مقصد ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار، افادیت اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
ایچ ای سی نے خیبرپختونخوا کی سرکاری اور نجی جامعات میں کمپیوٹنگ کے تعلیمی پروگراموں کا کوالٹی اشورنس جائزہ مکمل کر لیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔22جولائی (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے وزیر اعظم کی ہدایات کی روشنی میں خیبرپختونخوا کی سرکاری اور نجی جامعات میں کمپیوٹنگ کے تعلیمی پروگراموں کا کوالٹی اشورنس جائزہ مکمل کر لیا ہے جس کا مقصد ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار، افادیت اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
ایچ ای سی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق جائزے میں صوبے کی مختلف جامعات کے کمپیوٹنگ پروگراموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جن میں یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ، ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، ویمن یونیورسٹی مردان، یونیورسٹی آف بونیر، یونیورسٹی آف صوابی، ویمن یونیورسٹی صوابی، سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، دی یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور، شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور، برینز انسٹی ٹیوٹ، یونیورسٹی آف لکی مروت، گومل یونیورسٹی، خوشحال خان خٹک یونیورسٹی اور فاٹا یونیورسٹی شامل ہیں۔ اعلامیہ کے مطابق اس جائزے کا مقصد کمپیوٹنگ پروگراموں کا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ کوالٹی اشورنس کے پیمانوں کی روشنی میں جائزہ لینا اور بہتری کے امکانات کی نشاندہی کرنا تھا۔
اس دوران پروگرام کے مقاصد اور نتائج، نصاب کی تشکیل و تنظیم، مضمون سے متعلق سہولیات، طلبہ کی رہنمائی و مشاورت، تدریسی عملے کی اہلیت، ادارہ جاتی پالیسیوں اور انتظامی نظام، ادارہ جاتی معاون سہولیات اور عمومی تقاضوں سمیت آٹھ بنیادی معیارات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ماہرین پر مشتمل جائزہ ٹیموں نے تعلیمی دستاویزات، انتظامی ڈھانچے، نصاب، تجربہ گاہوں، طلبہ کی معاونت کے نظام، اساتذہ کی پیشہ ورانہ اہلیت، ادارہ جاتی وسائل اور کوالٹی اشورنس کے طریقہ کار کا معائنہ کیا۔ اس کے علاوہ جامعات کی انتظامیہ، اساتذہ، طلبہ اور دیگر متعلقہ فریقوں سے ملاقاتیں بھی کی گئیں تاکہ تعلیمی پروگراموں کے نفاذ اور ان کی موثریت کا جامع انداز میں جائزہ لیا جا سکے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ خیبرپختونخوا کی جامعات کمپیوٹنگ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور اپنے پروگراموں کو جدید تعلیمی اور صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہیں۔ شریک جامعات نے تعلیمی معیار میں بہتری، تدریسی ماحول کو مضبوط بنانے، طلبہ کی کامیابی کو فروغ دینے اور ادارہ جاتی استعداد میں اضافے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ ایچ ای سی کے مطابق اس جائزے کی سفارشات جامعات کے تعلیمی نظام اور معیار میں مزید بہتری، نتائج پر مبنی تعلیم کے فروغ، صنعت سے روابط مضبوط بنانے، طلبہ کی معاونت کے نظام کو موثر بنانے اور تعلیمی و ادارہ جاتی وسائل کی پائیدار ترقی میں معاون ثابت ہوں گی۔







