وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی کا پاکستان کے لسانی و ثقافتی ورثے کے تحفظ کیلئے حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت، اورنگزیب خان کچھی نے تاریخی اصول پر اُردو لغت کے نظرثانی شدہ ایڈیشن کی پہلی تین جلدوں کی رونمائی کرتے ہوئے اُردو زبان کے فروغ اور پاکستان کے لسانی و ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

اسلام آباد۔22جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت، اورنگزیب خان کچھی نے تاریخی اصول پر اُردو لغت کے نظرثانی شدہ ایڈیشن کی پہلی تین جلدوں کی رونمائی کرتے ہوئے اُردو زبان کے فروغ اور پاکستان کے لسانی و ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

وزارت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق بدھ کو تقریب کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اُردو کو قومی شناخت اور تہذیبی ورثے کی امین قرار دیا، ممتاز ماہرِ لسانیات ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی کو پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزازات میں سے ایک کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کیا، جبکہ تاریخی اُردو لغت کی تمام 22 جلدوں کی اشاعت کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخطوں کی بھی نگرانی کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اورنگزیب خان کچھی نے کہا کہ اُردو پاکستان کی قومی شناخت اور ثقافتی ورثے کی محافظ زبان ہے جبکہ مستند تاریخی اُردو لغت کی اشاعت ایک ایسا قیمتی علمی سرمایہ ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔

انہوں نے اُردو زبان کے فروغ اور قومی ادبی ورثے کے تحفظ کے لیے حکومت کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ خوبصورت نستعلیق رسم الخط میں شائع ہونے والا یہ ایڈیشن اُردو زبان کی ترقی اور ارتقاء کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اپنے ذیلی اداروں کے ذریعے پاکستان کے ثقافتی اور لسانی ورثے کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے، جن میں نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی کی علمی و ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ اور اُردو ڈکشنری بورڈ کو اس اہم قومی کامیابی پر مبارکباد دی۔ وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ وہ ڈاکٹر پردیسی کو پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزازات میں سے ایک کے لیے سفارش کریں گے۔

وفاقی سیکرٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی نے کہا کہ تاریخی اُردو لغت کا نظرثانی شدہ ایڈیشن برسوں کی محنت، تحقیق اور علمی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو قومیں اپنی لغات محفوظ رکھتی ہیں، وہ اپنے علمی، تہذیبی اور فکری ورثے کو بھی محفوظ رکھتی ہیں۔ انہوں نے نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ کی خدمات کو سراہتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر اور ان کی ٹیم کو اس اہم قومی منصوبے کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد دی۔ ڈائریکٹر جنرل نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد زبان و ادب کے فروغ کے لیے قائم کیے گئے اداروں نے ملکی ثقافتی اور ادبی ورثے کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقی معیار کے اعتبار سے تاریخی اُردو لغت دنیا کی ممتاز لغات کے ہم پلہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لغت کی پہلی جلد 1977ء میں جبکہ سابقہ ایڈیشن کی آخری جلد 2010ء میں شائع ہوئی تھی، تاہم اب نظرثانی شدہ ایڈیشن کی باقی جلدوں پر کام مزید تیزی سے مکمل کیا جائے گا۔ نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر راشد حمید نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے برکاتی فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی کی مالی معاونت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ انہی کے تعاون سے اس اہم اشاعتی منصوبے کو عملی شکل دی جا سکی، جبکہ وفاقی حکومت کی سرپرستی سے باقی جلدوں پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تاریخی اُردو لغت لسانی تحقیق کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور اس کا نظرثانی شدہ ایڈیشن محققین، طلبہ اور اہلِ علم کو مستند لسانی مواد تک آسان رسائی فراہم کرے گا۔

انہوں نے اُردو کو اپنی "مادری زبان” قرار دیتے ہوئے اس کی خدمت اور فروغ میں اپنا کردار ادا کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ادبی شخصیات واجد جاوید، ڈاکٹر فاروق عادل، ڈاکٹر عابد سیال، ڈاکٹر حمیرا اشفاق، ڈاکٹر رابعہ کیانی اور ڈاکٹر امجد کلو نے بھی اُردو زبان کی اہمیت اور تاریخی اُردو لغت کی علمی و تحقیقی افادیت پر روشنی ڈالی۔ تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر اورنگزیب خان کچھی اور ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی کے درمیان تاریخی اُردو لغت کی تمام 22 جلدوں کی اشاعت کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔

بعد ازاں ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی نے وفاقی وزیر کو مقدس تبرکات، قرآنِ مجید کا خصوصی نسخہ اور تاریخی اُردو لغت کی پہلی تین شائع شدہ جلدیں پیش کیں، جبکہ وفاقی وزیر نے اُردو زبان کے فروغ کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں تعریفی سند (سرٹیفکیٹ آف اپریسی ایشن) پیش کی۔ نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ (این ایل پی ڈی) کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں وفاقی سیکرٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی، ممتاز ماہرِ لسانیات ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی، اعلیٰ سرکاری حکام، ادیبوں، ماہرینِ لسانیات اور علمی و ادبی شخصیات نے شرکت کی۔

مزید خبریں