وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں ترقی کے اگلے مرحلے کیلئے زیادہ خودمختار، تجارتی طور پر فعال اور سرمایہ کاری پر مبنی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) نظام تشکیل دینے کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) یونٹ کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ فیصلہ بدھ کو وزیراعلی ہائوس میں وزیراعلی کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا۔
وزیراعلی سندھ کی زیرصدارت اجلاس، پی پی پی یونٹ کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ

مزید خبریں
کراچی۔ 22 جولائی (اے پی پی):وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں ترقی کے اگلے مرحلے کیلئے زیادہ خودمختار، تجارتی طور پر فعال اور سرمایہ کاری پر مبنی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) نظام تشکیل دینے کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) یونٹ کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ فیصلہ بدھ کو وزیراعلی ہائوس میں وزیراعلی کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری سید قاسم نوید، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلی آغا واصف، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نجم شاہ، سیکرٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکرٹری ٹرانسپورٹ اسد زمیں اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔
وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ سندھ کا پی پی پی پروگرام پاکستان کا سب سے نمایاں ذیلی قومی پی پی پی پروگرام بن کر ابھرا ہے، جس کے تحت سڑکوں اور پلوں، ٹرانسپورٹ، اقتصادی زونز، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، پانی، لائیو اسٹاک، تعلیم، صحت اور ماحولیات کے شعبوں میں منصوبوں کا بڑھتا ہوا پورٹ فولیو موجود ہے۔اس پروگرام کو یو این ای سی ای پی پی پی فورم اور دی ایسٹ انفراسٹرکچر ایوارڈز سمیت بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ 2018 میں دی اکانومسٹ کی جانب سے سندھ کے پی پی پی پروگرام کو ایشیا میں چھٹے نمبر پر رکھا گیا تھا۔ پی پی پی یونٹ نے دیگر صوبوں کو بھی ان کے پی پی پی فریم ورک اور منصوبوں کی تشکیل کو مضبوط بنانے کے لیے تکنیکی اور قانونی معاونت فراہم کی ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ یونٹ کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنے سے وہ پی پی پی منصوبوں کو زیادہ موثر انداز میں فروغ دینے اور سہولت فراہم کرنے، منصوبوں کی منظوری دینے والے اداروں کی معاونت، محکموں میں پی پی پی نوڈز کو مضبوط بنانے، پالیسیوں اور رہنما اصولوں کی تشکیل اور عملدرآمد، استعداد کار بڑھانے اور منصوبوں کے پورٹ فولیو کی کارکردگی کی نگرانی کے قابل ہوگا۔
وزیراعلی نے ہدایت کی کہ مجوزہ ادارہ جاتی تبدیلی کو اس مقصد کے ساتھ آگے بڑھایا جائے کہ عملی رکاوٹیں دور ہوں، خصوصی مہارت رکھنے والے پیشہ ور افراد کو برقرار رکھا جا سکے اور پی پی پی منصوبوں کی تیاری اور عملدرآمد میں تسلسل یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے ایسے مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا جو محکموں اور منصوبوں پر عملدرآمد کرنے والے اداروں کو بروقت تکنیکی، مالی اور قانونی معاونت فراہم کر سکے۔اس موقع پر سید مراد علی شاہ کو بتایا گیا کہ موجودہ پی پی پی یونٹ کو محدود مسابقتی معاوضوں اور مراعات کے باعث ماہر عملے کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بعض محکموں میں منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے مخصوص یونٹس اور پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی عدم موجودگی بھی منصوبوں کی تکمیل کی رفتار اور معیار کو متاثر کر رہی ہے۔مجوزہ پی پی پی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کو اسٹریٹجک سرگرمیاں انجام دینے، ضرورت کے مطابق ایکویٹی سرمایہ کاری کرنے، مالیاتی ذرائع کے ذریعے سرمایہ حاصل کرنے اور منصوبوں کی مالی معاونت میں مدد دینے کے لیے زیادہ تجارتی لچک حاصل ہوگی۔
کمپنی اپنے بورڈ کی منظوری اور نگرانی سے سرکاری فنڈنگ کے علاوہ آمدنی کے متنوع ذرائع بھی پیدا کر سکے گی۔وزیراعلی نے زور دیا کہ کمپنی کو مضبوط طرز حکمرانی، کارکردگی کے شفاف جائزے کے طریقہ کار اور واضح قانونی نگرانی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نئے ڈھانچے کے تحت صوبائی محکموں میں پی پی پی نوڈز کو مضبوط بنایا جائے، باصلاحیت افسران کو بااختیار بنایا جائے اور احتساب پر سمجھوتہ کیے بغیر منصوبوں کی موثر انداز میں کارروائی یقینی بنائی جائے۔اجلاس میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ تنظیم نو سے انتظامی کارکردگی بہتر بنانے، جدید مالیاتی ذرائع کی سہولت فراہم کرنے، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل تیز کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعلی نے کہا کہ مقصد ایک باصلاحیت، پائیدار اور موثر پی پی پی ادارہ قائم کرنا ہے جو سندھ کی ترقی اور خوشحالی میں بامعنی کردار ادا کر سکے۔






