کے ایم یو کی فیکلٹی اور طلبہ کی نیشنل مینٹل ہیلتھ کانفرنس میں شرکت

کے ایم یو کی فیکلٹی اور طلبہ کی نیشنل مینٹل ہیلتھ کانفرنس میں شرکت

(کے ایم یو) پشاور انسٹی ٹیوٹ آف پبلک مینٹل ہیلتھ اینڈ بی ہیویئرل سائنسز نے نیشنل مینٹل ہیلتھ کانفرنس 2026 میں بھرپور اور مؤثر شرکت کرتے ہوئے پاکستان میں ذہنی صحت کے شعبے میں تحقیق، تعلیم، کلینکل مہارت اور آگاہی کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔کے ایم یو پشاور تر جمان کے مطابق ادارے کی نمائندگی کرتے ہوئے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہما کنول نے پینلسٹ کی حیثیت سے بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین، ڈاکٹر زینب نیر اور امریکہ میں مقیم نیورو سائیکالوجسٹ ڈاکٹر نوید کے ہمراہ ایک اہم پینل مباحثے میں شرکت کی۔ اس موقع پر نوجوانوں کو درپیش بڑھتے ہوئے سماجی و جذباتی مسائل، بروقت تشخیص اور مداخلت، شواہد پر مبنی ذہنی صحت کی خدمات، اور تعلیمی اداروں و کمیونٹیز میں مربوط نفسیاتی و سماجی معاونت کے نظام کی ضرورت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ادارے کی تحقیقی سرگرمیوں کو مزید اجاگر کرتے ہوئے ڈیمانسٹریٹر ثنا رضا نے "پاکستان میں غیر شادی شدہ خواتین میں سماجی بدنامی (سوشل اسٹیگما) اور نفسیاتی فلاح و بہبود” کے موضوع پر اپنی تحقیق پیش کی، جسے ایک اہم مگر نسبتاً کم زیرِ بحث عوامی ذہنی صحت کے مسئلے کو اجاگر کرنے پر بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔ ان کی تحقیق میں معاشرتی توقعات اور سماجی دباؤ کے نفسیاتی اثرات کو نمایاں کرتے ہوئے ثقافتی حساسیت پر مبنی ذہنی صحت کی مداخلتوں، عوامی شعور کی بیداری اور مؤثر پالیسی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ نے بھی بھرپور شرکت کی۔
انہوں نے مختلف سائنسی نشستوں میں شرکت کی، ذہنی صحت کے قومی ماہرین اور محققین سے تبادلۂ خیال کیا اور جدید تحقیقی رجحانات سے آگاہی حاصل کی۔ اس شرکت سے طلبہ کو علمی و پیشہ ورانہ تربیت، نیٹ ورکنگ کے مواقع اور ذہنی و رویہ جاتی صحت کے شعبے میں جدید تحقیق اور علاج کے طریقوں سے روشناس ہونے کا موقع ملا۔اس قومی کانفرنس میں آئی پی ایم ایچ اینڈ بی ایس کی فعال اور مؤثر نمائندگی خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ ذہنی صحت کے شعبے میں تحقیقی معیار، افرادی صلاحیتوں کی ترقی، بین الشعبہ جاتی تعاون اور شواہد پر مبنی ذہنی صحت کی خدمات کے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ ادارہ ایسے ماہرین کی تیاری کے لیے پُرعزم ہے جو پاکستان کو درپیش نفسیاتی اور رویہ جاتی صحت کے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے ساتھ ساتھ قومی اور عالمی سطح پر ذہنی صحت کے فروغ میں بھی اپنا فعال کردار ادا کریں۔

مزید خبریں