پاکستان سمیت8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیل کی اشتعال انگیز کارروائیوں کی مذمت

پاکستان سمیت8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیل کی اشتعال انگیز کارروائیوں کی مذمت

اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ؍الحرم الشریف میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیز کارروائیوں بالخصوص اسرائیلی انتہا پسند وزراء کی قیادت میں آبادکاروں کے مسلسل بڑے پیمانے پر مسجد اقصیٰ ؍الحرم الشریف میں اسرائیلی افواج کے تحفظ میں داخل ہونے، اس کے صحنوں میں اسرائیلی پرچم لہرانے، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنے اور دیگر تمام اشتعال انگیز اقدامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

جمعہ کو دفتر خارجہ کے مطابق اپنے مشترکہ بیان میں وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کی صریح خلاف ورزی ہیں۔آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی کے لیے اکسانے، اور تشدد پر مبنی غیر قانونی اور انتہا پسندانہ اقدامات کی بھی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ اشتعال انگیز اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو ہوا دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور دیرپا امن کے قیام کی کوششوں میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر اور وہاں واقع عبادت گاہوں تک رسائی پر عائد پابندیاں نیز قدیم شہر کی دیگر عبادت گاہوں تک امتیازی اور من مانے انداز میں رسائی محدود کرنا، بین الاقوامی قانون، بشمول بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی اور تاریخی و قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی غیر قانونی کوشش ہے۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ بیت المقدس یا وہاں کے اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔ وزرائے خارجہ نے قابض اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے تاریخی، قانونی اور آبادیاتی تشخص کو تبدیل کرنے اور وہاں کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اور مسلسل خلاف ورزیوں اور اقدامات کی سخت مذمت کی۔انہوں نے مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس ضمن میں تاریخی ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

وزرائے خارجہ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ مسجد اقصیٰ؍الحرم الشریف کا پورا 144 دونم پر مشتمل احاطہ صرف مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص ہے اور یہ کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت محکمہ اوقافِ مقبوضہ بیت المقدس اور امورِ مسجد اقصیٰ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جسے مسجد اقصیٰ؍الحرم الشریف کے انتظام و انصرام اور اس میں داخلے کو منظم کرنے کا خصوصی اختیار حاصل ہے۔ وزرائے خارجہ نے قابض طاقت کی حیثیت سے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر تک رسائی پر عائد پابندیاں ختم کرے اور نمازیوں کو مسجد اقصیٰ تک پہنچنے سے روکنے سے باز رہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ ایک مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے جو اسرائیل کو مقبوضہ بیت المقدس کے اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیوں اور غیر قانونی اقدامات نیز ان مقدس مقامات کے تقدس کی پامالی سے باز رکھنے پر مجبور کرے۔

مزید خبریں