وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ انڈس راس ایکسپو 2026 انتہائی کامیاب رہی، ۔عالمی معیشت میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو روایتی صنعتوں کو جدید آٹومیشن، مصنوعی ذہانت (AI)، روبوٹکس اور خودکار نظاموں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔۔
انڈس راس ایکسپو 2026 انتہائی کامیاب رہی،پاکستان کی معیشت کا مستقبل اے آئی، روبوٹکس اور آٹومیشن سے وابستہ ہے، شزا فاطمہ خواجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ انڈس راس ایکسپو 2026 انتہائی کامیاب رہی، ۔عالمی معیشت میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو روایتی صنعتوں کو جدید آٹومیشن، مصنوعی ذہانت (AI)، روبوٹکس اور خودکار نظاموں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کوراس (روبوٹکس اور خودمختار نظاموں) ایکسپو 2026 کے اختتام پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ انڈس راس ایکسپو 2026 انتہائی کامیاب رہی، جس میں 20 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔انہوں نے منتظمین، شرکا ، صنعتی اداروں، جامعات، میڈیا اور تمام معاون اداروں کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے صنعتی معیشت سے نالج اکانومی کی طرف منتقل ہو رہی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت، بلاک چین، روبوٹکس، خودکار نظام اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز ترقی کا بنیادی ذریعہ بن چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے اپنی معیشت کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق مضبوط بنانا ہے تو صرف ٹیکسوں میں کمی یا بجلی سستی کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ قومی صنعت کو جدید آٹومیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں اب ایسی فیکٹریاں قائم ہو رہی ہیں جہاں روبوٹس اور خودکار نظام انسانی مداخلت کے بغیر پیداوار جاری رکھتے ہیں، لہٰذا پاکستان کو بھی اسی سمت میں پیش رفت کرنا ہوگی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ایکسپو کا مقصد صرف جدید ٹیکنالوجی کی نمائش نہیں بلکہ پاکستان کی قومی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنا بھی تھا۔ اس مقصد کے لیے اوپن انویٹیشن دی گئی، جس کے جواب میں 500 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 54 کمپنیوں اور 10 اسٹارٹ اپس کو اپنی مصنوعات اور ٹیکنالوجی پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت صنعت، جامعات اور نوجوانوں کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنے پر کام کر رہی ہے تاکہ تحقیق، اختراع اور صنعتی ضروریات کو ایک دوسرے سے جوڑا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ اور جدید ٹیکنالوجیز میں کیریئر کے مواقع سے آگاہ کرنے کے لیے مختلف پروگرام بھی شروع کیے جا رہے ہیں۔شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ملک بھر میں روڈ شوز منعقد کیے جائیں گے تاکہ صنعتکاروں اور کاروباری اداروں کو آٹومیشن اور جدید ٹیکنالوجی کی افادیت سے آگاہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے سمولیٹرز بھی تیار کرے گی جہاں صنعتکار اپنی پیداواری لائنوں اور کاروباری ماڈلز کو آٹومیشن کے ذریعے آزما سکیں اور سرمایہ کاری کے فوائد کا عملی جائزہ لے سکیں۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ آٹومیشن سے روزگار ختم ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشینیں انسانوں کی جگہ نہیں لیں گی بلکہ ملازمتوں کی نوعیت تبدیل ہوگی۔ مستقبل میں وہی افراد کامیاب ہوں گے جو مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، پروگرامنگ، الیکٹریکل انجینئرنگ اور جدید ٹیکنالوجیز میں مہارت رکھتے ہوں گے۔وفاقی وزیر نے طلبہ اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ فیصلوں میں جدید ٹیکنالوجی کو ترجیح دیں، کیونکہ یہی شعبے مستقبل کی معیشت، قومی ترقی اور پاکستان کی عالمی مسابقت میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ دو روزہ ایکسپو کے دوران روبوٹکس، خودکار نظام، دفاعی ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت، صنعتی آٹومیشن اور دیگر جدید شعبوں سے متعلق متعدد سیمینارز، پینل مباحثے، پالیسی ڈائیلاگز اور تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا گیا، جن میں ماہرین، صنعتکاروں، جامعات اور سرکاری اداروں نے بھرپور شرکت کی۔اختتام پر شزا فاطمہ خواجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت مستقبل میں بھی ایسے ایونٹس کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ پاکستان روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک مضبوط اور باصلاحیت ملک کے طور پر ابھر سکے۔








