وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زکوٰۃ و عشرملک لیاقت خان کا سوشل ویلفیئر کمپلیکس مانسہرہ کا دورہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زکوٰۃ و عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ترقیِ نسواں ملک لیاقت خان نے جمعہ کے روز سوشل ویلفیئر کمپلیکس مانسہرہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے محکمہ سماجی بہبود کے مختلف اداروں کا معائنہ کیا، افسران سے ادارہ جاتی امور پر بریفنگ لی اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔

مانسہرہ۔ 24 جولائی (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زکوٰۃ و عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ترقیِ نسواں ملک لیاقت خان نے جمعہ کے روز سوشل ویلفیئر کمپلیکس مانسہرہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے محکمہ سماجی بہبود کے مختلف اداروں کا معائنہ کیا، افسران سے ادارہ جاتی امور پر بریفنگ لی اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر آفیسرسائرہ مشتاق نے ضلع مانسہرہ میں محکمہ سماجی بہبود کی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں، فلاحی پروگراموں اور خصوصی افراد، خواتین اور دیگر مستحق طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے جاری اقدامات پر بریفنگ دی۔اس موقع پر سیکرٹری سوشل ویلفیئر شریف حسین، متعلقہ افسران اور معززینِ علاقہ بھی موجود تھے۔

کھلی کچہری کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ملک لیاقت خان نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی ہدایات پر صوبے بھر میں محکمہ سماجی بہبود کے زیرانتظام اداروں کے دورے کر رہے ہیں تاکہ خصوصی افراد، یتیم بچوں، بے سہارا خواتین اور دیگر مستحق طبقات کو درپیش مسائل کا براہِ راست جائزہ لے کر ان کے مؤثر اور بروقت حل کو یقینی بنا سکیں۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ دارالامان میں مقیم خواتین کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ وہ معاشی طور پر خودمختار بن سکیں اور معاشرے میں باوقار زندگی گزارنے کے قابل ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ویل چیئرز، ٹرائی سائیکلز، سلائی مشینیں اور دیگر معاون آلات صرف مقررہ محکمانہ طریقہ کار، میرٹ اور شفاف سکورنگ سسٹم کے تحت مستحق افراد میں تقسیم کیے جائیں۔مشیر برائے زکوٰۃ و عشر نے کہا کہ کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال مانسہرہ میں قائم پناہ گاہ کو مزید بہتر طریقے سے فعال اور مؤثر بنایا جائے گا تاکہ مستحق اور دور دراز سے آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو بہتر سہولیات میسر آسکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنیکل ایجوکیشن سنٹرز کو ٹیکنیکل بورڈ سے منسلک کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو معیاری فنی تعلیم، ہنر مندی اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔انہوں نے تمام ڈسٹرکٹ زکوٰۃ افسران کو ہدایت کی کہ مقامی زکوٰۃ کمیٹیوں کے تعاون سے یونین کونسل اور ویلیج کونسل کی سطح پر خصوصی افراد کی ان کی دہلیز پر رجسٹریشن یقینی بنائی جائے تاکہ کوئی بھی مستحق حکومتی سہولیات سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مانسہرہ میں خصوصی افراد کے لیے ووکیشنل سنٹر کو فعال کیا جائے گا اور تمام مستحق معذور افراد کو ویل چیئرز سمیت ضروری معاون آلات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ملک لیاقت خان نے کہا کہ حکومت ہر ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں محکمہ کھیل کے تعاون سے خصوصی افراد کے لیے سپورٹس کمپلیکس قائم کرے گی جبکہ نابینا افراد کے لیے ہاسٹل کے قیام اور خصوصی افراد کے لیے لیپ ٹاپ سکیم متعارف کرانے پر بھی کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کو عزت، مساوی مواقع اور باوقار زندگی کی فراہمی موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ احساس کارڈ پروگرام جلد دوبارہ شروع کیا جائے گا، جبکہ زکوٰۃ فنڈ سے اقلیتی برادری کے مستحق افراد کو بھی مستفید کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمتوں میں خصوصی افراد کے لیے مختص دو فیصد کوٹہ ہر صورت نافذ کیا جائے گا، غیرقانونی بھرتیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور اس ضمن میں تمام متعلقہ سرکاری محکموں کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ہاتھ اور ٹانگوں کی فراہمی کے مراکز کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے گا جبکہ فنی تربیت کے مزید مراکز قائم کیے جائیں گے تاکہ خصوصی افراد کو خودمختار اور بااختیار بنایا جا سکے۔ملک لیاقت خان نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ خصوصی افراد کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ میں نصف کرایہ اور دورانِ سفر بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے خواتین کے کھیلوں کے فروغ کے لیے بھی خصوصی اقدامات کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ خواجہ سراؤں کے ساتھ کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک یا ظلم ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ خواجہ سراء افراد اپنی رجسٹریشن مکمل کریں تاکہ انہیں حکومتی فلاحی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے جبکہ ان کے تحفظ اور بحالی کے لیے خصوصی مراکز بھی قائم کیے جائیں گے۔ ڈس ایبلٹی ایکٹ پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد حکومت کی ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت، تاخیر یا رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کی فلاح و بہبود، بحالی اور بااختیار بنانے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے گی۔