افغان طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں شدت،ہزاروں نوجوان رجیم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے

افغان طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں شدت آ گئی، ہزاروں نوجوان رجیم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق افغان طالبان کے ساتھ حالیہ دنوں میں مسلح مخالف گروپس کی جھڑپوں نے رجیم کے افغانستان پرمکمل کنٹرول کے دعوؤں کا پول کھول دیا ۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ طالبان رجیم کے خلاف افغان نوجوانوں کی بڑی تعدادان کے ساتھ شمولیت اختیارکررہی ہے ۔

اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):افغان طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں شدت آ گئی، ہزاروں نوجوان رجیم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق افغان طالبان کے ساتھ حالیہ دنوں میں مسلح مخالف گروپس کی جھڑپوں نے رجیم کے افغانستان پرمکمل کنٹرول کے دعوؤں کا پول کھول دیا ۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ طالبان رجیم کے خلاف افغان نوجوانوں کی بڑی تعدادان کے ساتھ شمولیت اختیارکررہی ہے ۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف )کےدعوے کے مطابق بدخشاں، بلخ، پنج شیرسمیت مختلف علاقوں سے 2ہزار سے زائد نوجوان مزاحمتی تنظیموں میں شامل ہوچکے ہیں، بدخشاں وطن کے حقیقی فرزندوں کے ہاتھوں میں جا رہا ہے۔

دوسری جانب افغان صحافی عثمان بازگر کے مطابق فریڈم فرنٹ نے زیباک میں طالبان کی چوکی پر قبضے کا اعلان کردیا۔ سابق افغان سفارتکار فیاض غیاثی نےافغان طالبان پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں آزادی کوکچل دیاگیا تاہم بدخشاں سمیت شمالی وشمال مشرقی صوبے طالبان سے آزاد کرائے جائیں گے، افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں عسکری جھڑپوں اورطالبان مخالف گروپس کی پیش قدمی نےرجیم کے امن واستحکام کے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔

مزید خبریں