سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ضابطہ دیوانی (سی پی سی) کے آرڈر VII رول 11 کے تحت کسی دعوے (Plaint) کو صرف اس بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ عدالت کے نزدیک مدعی اپنے الزامات ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ اگر دعوے میں ایسے بنیادی حقائق موجود ہوں جو قانونی طور پر قابل سماعت دعویٰ (Cause of Action) بناتے ہوں تو مقدمے کا …
دعویٰ مسترد کرنے کے اختیار کا دائرہ محدود، قابل سماعت دعویٰ شواہد سے پہلے خارج نہیں کیا جا سکتا،سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ضابطہ دیوانی (سی پی سی) کے آرڈر VII رول 11 کے تحت کسی دعوے (Plaint) کو صرف اس بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ عدالت کے نزدیک مدعی اپنے الزامات ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ اگر دعوے میں ایسے بنیادی حقائق موجود ہوں جو قانونی طور پر قابل سماعت دعویٰ (Cause of Action) بناتے ہوں تو مقدمے کا فیصلہ شواہد ریکارڈ کیے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل بینچ کے ذریعے شہری نثار احمد افضل کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔ اکثریتی فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا جبکہ جسٹس محمد شفیع صدیقی نے اختلافی نوٹ لکھا۔عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے مدعی کا دعویٰ بحال کر دیا اور مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا تاکہ قانون کے مطابق شواہد کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ آرڈر VII رول 11 کے تحت عدالت کا اختیار انتہائی محدود ہے اور اس مرحلے پر صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا دعوے میں بیان کردہ حقائق اگر درست تسلیم کر لیے جائیں تو وہ قانونی حق اور قابل سماعت دعویٰ پیدا کرتے ہیں یا نہیں۔ عدالت اس مرحلے پر نہ شواہد کا جائزہ لے سکتی ہے، نہ ہی الزامات کی سچائی یا کامیابی کے امکانات کا تعین کر سکتی ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ Cause of Action کے انکشاف (Disclosure) اور اس کے ثابت ہونے (Proof) میں بنیادی فرق ہے۔ اگر دعوے میں ضروری حقائق موجود ہوں تو اسے اس بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ عدالت کے خیال میں ان حقائق کو ثابت کرنا مشکل ہوگا۔
ایسا کرنا مقدمے کی باقاعدہ سماعت سے پہلے ہی اس کے میرٹ پر فیصلہ دینے کے مترادف ہوگا جو قانون کے منافی ہے۔ عدالت کے مطابق مدعی نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس نے اعتماد کی بنیاد پر اسلام آباد کے سیکٹر ایف-11/2 میں واقع جائیداد 6.5 کروڑ روپے میں فروخت کی تاہم رقم ادا نہیں کی گئی اور وعدہ خلافی کرتے ہوئے جائیداد منتقل کرا لی گئی۔ یہ الزامات بادی النظر میں دھوکہ دہی اور فراڈ کا دعویٰ تشکیل دیتے ہیں جن کی حقیقت کا تعین صرف باقاعدہ ٹرائل کے دوران شواہد کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔
اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ نچلی عدالتوں نے اس بات کو کہ مدعی کے لیے اپنے دعوے کو ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے غلط طور پر Cause of Action نہ ہونے کے مترادف قرار دے دیاحالانکہ یہ دونوں الگ قانونی تصورات ہیں۔دوسری جانب جسٹس محمد شفیع صدیقی نے اختلافی نوٹ میں قرار دیا کہ انتقال جائیداد رضاکارانہ طور پر ہوا تھا اور فروخت کی قیمت بعد میں ادا کرنے پر اتفاق موجود تھا اس لیے عدم ادائیگی کی صورت میں قانونی چارہ جوئی قیمت کی وصولی ہو سکتی ہےنہ کہ انتقال منسوخ کرانے کی۔ ان کے مطابق ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے درست طور پر دعویٰ مسترد کیا تھا۔








