نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد کا واپڈا ہاؤس کا دورہ، آبی و توانائی منصوبوں پر بریفنگ

نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد نے منگل کو واپڈا ہاؤس کا دورہ کیا۔ وفد کو پاکستان میں پانی اور پن بجلی کے وسائل کی ترقی کیلئے واپڈا منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ کے دوران وفد کو پاکستان کی واٹر، فوڈ اورانرجی سکیورٹی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، پانی کی اہمیت کے مختلف پہلوؤں، بھارت کی جانب سے پانی کا بطور ہتھیار استعمال اور قومی ترقی میں واپڈا کے کردار کے …

اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد نے منگل کو واپڈا ہاؤس کا دورہ کیا۔ وفد کو پاکستان میں پانی اور پن بجلی کے وسائل کی ترقی کیلئے واپڈا منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ کے دوران وفد کو پاکستان کی واٹر، فوڈ اورانرجی سکیورٹی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، پانی کی اہمیت کے مختلف پہلوؤں، بھارت کی جانب سے پانی کا بطور ہتھیار استعمال اور قومی ترقی میں واپڈا کے کردار کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ وفد کو بتایا گیا کہ واپڈا دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، داسو اور تربیلا پانچویں توسیعی منصوبے سمیت پانی اور پن بجلی کے متعدد بڑے پراجیکٹ تعمیر کررہا ہے۔

یہ منصوبے مکمل ہونے پر پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت میں تقریباً 10 ملین ایکڑ فٹ اضافہ ہوگا اور ساتھ ہی نیشنل گرڈ میں کم و بیش 10 ہزار میگاواٹ ماحول دوست اور سستی پن بجلی بھی شامل ہو گی۔بریفنگ کے بعد باہمی گفت و شنید کی نشست میں چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر)محمد سعید نے موسمیاتی تبدیلیوں اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی وجہ سے پاکستان کی واٹر سکیورٹی کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ چیئرمین نے نئے آبی ذخائر تعمیر کرنے کی ضرورت اور ملک میں آبی وسائل کی سست رفتار ترقی کے عوامل کی بھی وضاحت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی واٹر، فوڈ اور انرجی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے قومی یگانگت کی سوچ ضروری ہے۔چیئرمین واپڈا نے 2007 میں پاور ونگ کی ری سٹرکچرنگ کے بعد واپڈا کے کردار اور دائرہ عمل کی بھی وضاحت کی۔ممبر فنانس نوید اصغر چوہدری، ممبر پاور محمد عرفان میانہ، ممبر واٹر عاصم رؤف خان اور واپڈا کے دیگر سینئر آفیسرز بھی اس موقع پر موجود تھے۔

مزید خبریں