اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی اور ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام یو این ایف پی اے میڈیا کولیشن اجلاس

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) اورپالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام چوتھا یو این ایف پی اے میڈیا کولیشن اجلاس منعقد ہوا جس میں پنجاب بھر سے سینئر صحافیوں، بیورو چیفس اور ڈیجیٹل و علاقائی میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی ۔

اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) اورپالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام چوتھا یو این ایف پی اے میڈیا کولیشن اجلاس منعقد ہوا جس میں پنجاب بھر سے سینئر صحافیوں، بیورو چیفس اور ڈیجیٹل و علاقائی میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ حکومت نیدرلینڈز کے تعاون سے منعقدہ اجلاس کا مقصد آبادی، تولیدی صحت، نوجوانوں، کم عمری کی شادی، صنفی بنیاد پر تشدد اور انسانی ترقی سے متعلق معاملات پر حقائق اور مستند اعداد و شمار کی بنیاد پر ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینا تھا۔اجلاس کے دوران شرکا کو پاکستان لیبر فورس سروے، پاکستان سوشل اینڈ لیونگ سٹینڈرڈز میڑرمنٹ سروے اور مردم شماری کے تازہ ترین اعداد و شمار فراہم کئے گئے تاکہ ان کی مدد سے عوامی مفاد پر مبنی تحقیقی رپورٹس اور معیاری خبریں تیار کی جا سکیں۔

اس موقع پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے انہی اعداد و شمار سے مختلف ممکنہ خبروں کی سرخیاں تیار کرنے کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا جن میں ترقیاتی بجٹ، خاندانی منصوبہ بندی، نوجوانوں کی بے روزگاری، سکول سے باہر بچوں، کم عمری کی شادی اور زچگی کے دوران اموات جیسے موضوعات شامل تھے۔یو این ایف پی اے کی پنجاب کوآرڈینیٹر تانیا درانی نے کہا کہ پنجاب میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ (ترمیمی) بل کی منظوری مسلسل پارلیمانی رابطوں اور سندھ کے مطالعاتی دورے کے نتیجے میں ممکن ہوئی جہاں پنجاب کے ارکان اسمبلی نے سندھ کے قانون کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کولیشن کا مقصد صحافیوں کی پیشہ ورانہ معاونت کرنا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ یو این ایف پی اے اور ایس ڈی پی آئی آئندہ بھی صحافیوں کو مختصر ڈیٹا شیٹس، قانونی پیش رفت اور متعلقہ ماہرین تک رسائی فراہم کرتے رہیں گے۔یو این ایف پی اے کی سربراہ برائے کمیونیکیشن اینڈ ایڈووکیسی مریم نواز نے کہا کہ صنفی بنیاد پر تشدد کی رپورٹنگ میں سنسنی خیزی سے اجتناب ناگزیر ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض اوقات متاثرہ خواتین اور کم عمر بچیوں سے بھی واقعات کی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ متاثرین کے وقار کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی رپورٹنگ ہمیشہ رضامندی، تحفظ، وقار اور عوامی مفاد کے چار بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھ کر کی جانی چاہئے۔انہوں نے مزید کہا کہ تولیدی صحت کو صرف آبادی پر قابو پانے کے تناظر میں پیش کرنا درست نہیں کیونکہ آبادی کو بوجھ نہیں بلکہ قومی ترقی کےلئے ایک قیمتی انسانی سرمایہ سمجھا جانا چاہئے۔ یونیسکو کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں ہر چار میں سے تین خواتین کسی نہ کسی صورت آن لائن تشدد یا ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں جبکہ صحافی بھی اس مسئلے سے محفوظ نہیں اور بیشتر واقعات رپورٹ ہی نہیں کئے جاتے۔

ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر ساجد امین نے کہا کہ میڈیا کولیشن محض ایک رسمی سرگرمی نہیں بلکہ ان حساس سماجی موضوعات پر مستقل قومی مکالمہ شروع کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے جن پر ہمارے معاشرے میں اب بھی کھل کر گفتگو نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ صحافی معاشرتی تبدیلی کے سب سے موثر سفیر ہیں اس لئے مدیران اور بیورو چیفس کو چاہئے کہ وہ ان موضوعات کو اپنی ادارتی ترجیحات میں مستقل جگہ دیں۔یو این ایف پی اے کی تولیدی صحت کی ماہر حسنیٰ نے کہا کہ پنجاب میں قبل از شادی مشاورت سے متعلق قانون موجود ہے مگر اس پر موثر اور یکساں عمل درآمد اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یو این ایف پی اے نے بعض سرکاری صحت مراکز میں قبل از شادی مشاورتی خدمات متعارف کرائی ہیں تاہم پالیسی اور عملی نفاذ کے درمیان موجود خلا کو پر کرنے کی ضرورت ہے۔

اجلاس کے اختتام پر تانیا درانی نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ میڈیا کولیشن کو ایک مستقل علمی اور تحقیقی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کریں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ یو این ایف پی اے آئندہ بھی صحافیوں کو قانونی و تکنیکی ماہرین تک رسائی، مستند اعداد و شمار اور مختصر معلوماتی مواد فراہم کرتا رہے گا تاکہ آبادی، صحت، تعلیم، صنفی مساوات اور انسانی ترقی سے متعلق مسائل پر باخبر، متوازن اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دیا جا سکے۔اجلاس کے شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خاندانی منصوبہ بندی، تولیدی صحت،سکول سے باہر بچوں، کم عمری کی شادی، صنفی مساوات اور خواتین کے خلاف تشدد جیسے اہم سماجی موضوعات پر حقائق، تحقیق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر معیاری رپورٹنگ کو فروغ دیں گے۔