وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کا نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کے لیے حکومت پاکستان کے عزم کا اعادہ

"وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا کہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی استنبول میں منعقد ہونے والی بزنس اپرچونٹی کانفرنس پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت کو 5 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کے مشترکہ وژن سے ہم آہنگ ہے۔”

اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کے لیے حکومت پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کی جانب سے 13 اگست 2026ء کو استنبول میں منعقد ہونے والی بزنس اپرچونٹی کانفرنس اینڈ ایکسیلینس ایوارڈز وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت کو 5 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کے مشترکہ وژن سے ہم آہنگ ہے۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ ترکیہ پاکستان کا دوسرا گھر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ سیاسی اور برادرانہ تعلقات کو اب سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور کاروبار سے کاروبار (بی ٹو بی) تعاون کے ذریعے مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے اعلان کیا کہ وہ پاکستانی کاروباری وفد کی قیادت کرتے ہوئے ترکیہ جائیں گے اور پاکستانی و ترک سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے درمیان موثر روابط اور ملاقاتوں کو فروغ دیں گے تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہو۔ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان سیاسی اور معاشی استحکام کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ملکی معیشت پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کو بااختیار بنانے، صنعتی ترقی کو تیز کرنے اور پاکستان کو ایک مسابقتی مینوفیکچرنگ اور برآمدی مرکز بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ایک جامع قومی صنعتی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد صنعتی مسابقت کو فروغ دینا، برآمدات پر مبنی ترقی کو تیز کرنا اور چین، ترکیہ اور وسطی ایشیائی ریاستوں (سی اے آرز) سے سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے، ضوابط کو سادہ بنانے، ٹیرف کو موثر بنانے اور کاروبار دوست ماحول فراہم کرنے کے لیے اصلاحات پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے۔ اہم پالیسی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت جدید صنعتی، آٹو موبائل اور الیکٹرک وہیکل پالیسیوں کو متعارف کرا رہی ہے جبکہ قابل تجدید توانائی، بیٹری مینوفیکچرنگ، الیکٹرانکس اور فارماسیوٹیکل کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) اور برآمد کنندگان کی معاونت کیلئے آسان مالیاتی سہولیات، ایکسپورٹ ری فنانسنگ، طویل المدتی فنانسنگ سکیموں اور ہدفی ٹیکس مراعات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔اس موقع پر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار طاہر محمود نے چیمبر کی بین الاقوامی سرگرمیوں کی مسلسل حمایت پر ہارون اختر خان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ استنبول میں منعقد ہونے والی بزنس اپرچونٹی کانفرنس پاکستان کی معاشی صلاحیتوں کو اجاگر کرے گی، اعلیٰ سطح کے کاروباری روابط (بی ٹو بی) کو فروغ دے گی، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی کرے گی، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو ممکن بنائے گی اور رئیل اسٹیٹ، تعمیرات، صحت، فارماسیوٹیکل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، سیاحت، انجینئرنگ اور لاجسٹکس سمیت مختلف شعبوں میں برآمدات کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔اسلام آباد میں ترکیہ کے سفارت خانے کے کمرشل قونصلر اینیس ملک چیتن نے بھی آئی سی سی آئی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ کانفرنس اور کاروباری روابط (B2B Matchmaking) کے سیشنز پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔پریس کانفرنس میں آئی سی سی آئی کے فائونڈر گروپ کے چیئرمین شیخ طارق صادق، سینئر نائب صدر طاہر ایوب، نائب صدر عرفان چوہدری، چیمبر کے سابق صدور، ایگزیکٹو ممبران اور اسلام آباد کی کاروباری برادری کے نمائندوں نے شرکت کی