وزیر قانون خیبر پختونخوا کی زیر صدارت ریسکیو 1122 ضلع کوہاٹ کے امور سے متعلق اہم اجلاس، حکام کی جانب سے ریسکیو سروسز کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ

"وزیر قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق خیبر پختونخوا آفتاب عالم کی زیرِ صدارت محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری پشاور میں ریسکیو 1122 ضلع کوہاٹ کے انتظامی و آپریشنل امور کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا۔”

پشاور۔ 28 جولائی (اے پی پی):وزیر قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق خیبر پختونخوا آفتاب عالم کی زیر صدارت محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری پشاورمیں ریسکیو 1122 ضلع کوہاٹ کے انتظامی و آپریشنل امور کا جائزہ لینے حوالےاہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری کے اعلیٰ حکام، ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ ریلیف اور ریسکیو 1122 کے حکام نے ضلع کوہاٹ میں ریسکیو سروسز کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ریسکیو 1122 کوہاٹ کا باقاعدہ آغاز 2018 میں کیا گیاجبکہ 2023 میں اس کے نیٹ ورک کو ضلع بھر تک توسیع دی گئی۔ 2024 میں مائنز ریسکیو سروس کا آغاز کیا گیا اور 2026 میں واٹر ریسکیو سروس کو مزید مضبوط بنایا گیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع کوہاٹ میں اس وقت 6 ریسکیو اسٹیشنز فعال ہیں، جن میں تحصیل کوہاٹ کے 2 ریسکیو اسٹیشنز بھی شامل ہیں۔ ریسکیو 1122 کے پاس 26 ایمبولینسز، 10 ہیوی ریسکیو گاڑیاں اور 125 تربیت یافتہ اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ادارہ طبی امداد، فائر فائٹنگ، ٹریفک حادثات میں ریسکیو، سرچ اینڈ ریسکیو، قدرتی آفات سے نمٹنے، عمارت گرنے کے واقعات میں امدادی کارروائیوں اور کمیونٹی ایمرجنسی آگاہی و تربیت جیسی خدمات فراہم کر رہا ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ آرایچ سی استرزئی، آرآیچ سی چورلکی اور سول ہسپتال زرغون خیل درہ آدم خیل میں ریسکیو 1122 کے کی پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں تاکہ دور دراز علاقوں میں بروقت ایمرجنسی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ اس کے علاوہ ریسکیو 1122 کی استعداد کار میں مزید اضافے کے لیے ورلڈ بینک کے تعاون سے دو ترقیاتی منصوبے بھی منظور ہو چکے ہیں۔اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے وزیر قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم نے کہا کہ عوام کو بروقت اور معیاری ایمرجنسی سہولیات کی فراہمی حکومت خیبرپختونخوا کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نےہدایت کی کہ جن علاقوں میں ریسکیو سہولیات محدود ہیں، وہاں ترجیحی بنیادوں پر نئے ریسکیو اسٹیشنز قائم کیے جائیں۔انہوں نے اولڈ پنڈی روڈ پر ایک نیا ریسکیو اسٹیشن یا سب اسٹیشن قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے شہریوں کو بروقت امدادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہوگی۔ وزیر قانون نے ہدایت کی کہ نچلی سطح پر ہونے والی بھرتیوں میں متعلقہ علاقوں کے مقامی نوجوانوں کو ترجیح دی جائے تاکہ روزگار کے مواقع بڑھنے کے ساتھ ساتھ ریسکیو سروسز بھی مزید مؤثر انداز میں انجام دی جا سکیں۔ایڈووکیٹ آفتاب عالم نے بی ایچ یو توغ بالا اور آر ایچ سی چورلکی میں مزید کی پوائنٹس کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا اور حکومت کی جانب سے ان منصوبوں کے لیے درکار اراضی کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ ضلع کوہاٹ میں ریسکیو 1122 کے نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے، جدید آلات کی فراہمی، افرادی قوت میں اضافے اور دور افتادہ علاقوں تک ایمرجنسی سہولیات کی رسائی یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے عملی اقدامات کریں گے۔