"آلو تحقیقاتی ادارہ (پی آر آئی) ساہیوال کے سائنسدانوں نے آلو کی چار نئی اقسام تیار کر لی ہیں، جن میں خشک مادے کا تناسب 22 فیصد سے زیادہ ہے۔ نئی اقسام کا مقصد پاکستان میں پروسیسڈ آلو کی صنعت، خصوصاً فرنچ فرائز اور آلو چپس کی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔”
پاکستان میں فرنچ فرائز اور چپس کی صنعت کے لئے آلو کی چار نئی اقسام تیار

مزید خبریں
لاہور۔28جولائی (اے پی پی):آلو تحقیقاتی ادارہ (پی آر آئی) ساہیوال کے سائنسدانوں نے آلو کی چار نئی اقسام تیار کی ہیں جن میں خشک مادے (ڈرائی میٹر) کا تناسب 22 فیصد سے زیادہ ہے، ان اقسام کی تیاری کا مقصد پاکستان میں پروسیسڈ آلو کی صنعت خصوصاً فرنچ فرائز اور آلو کے چپس کی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔
آلو تحقیقاتی ادارہ ساہیوال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رانا آفتاب اقبال نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ ہم نے حال ہی میں آلو کی چار نئی اقسام تیار کی ہیں جن میں خشک مادے کا تناسب 22 فیصد سے زیادہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان نئی اقسام کے نام L 5-2، FD 74-30، FD 35-36 اور FD 74-50 ہیں۔ڈاکٹر رانا آفتاب اقبال نے کہا کہ 2009 میں قائم ہونے والے آلو تحقیقاتی ادارے نے اب تک کھانے کے لئے استعمال ہونے والی آلو کی 12 اقسام تیار کی ہیں جن میں پنجاب، صدف اور روبی ایسی اقسام ہیں جن میں خشک مادے کا تناسب 20 سے 22 فیصد کے درمیان ہے۔انہوں نے کہا کہ پروسیسڈ آلو کی مصنوعات تیار کرنے کے لئے خشک مادے کا زیادہ تناسب انتہائی اہم خصوصیت ہے کیونکہ کم خشک مادہ رکھنے والی اقسام سے معیاری فرنچ فرائز اور آلو کے چپس تیار نہیں کئے جا سکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ کم خشک مادہ رکھنے والی عام آلو کی اقسام کو ویلیو ایڈڈ مصنوعات، جیسے چپس اور فرنچ فرائز، کی تیاری کے لئے مؤثر انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ڈاکٹر آفتاب اقبال کے مطابق پنجاب میں کسان روایتی طور پر زیادہ پیداوار دینے والی عام آلو کی اقسام کو ترجیح دیتے رہے ہیں جن میں خشک مادے کا تناسب نسبتاً کم ہوتا ہے کیونکہ ان سے فی ایکڑ زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہےتاہم انہوں نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں کسانوں نے زیادہ خشک مادہ رکھنے والی درآمدی اقسام خصوصاً ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی لیڈی روزیٹا، ہرمیس، الورسٹون، وینس، سانتے اور ایسٹرکس کی کاشت بھی شروع کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موسمی حالات جن میں شدید سردی، خشک سالی اور گرمی کا دباؤ شامل ہے، کے مطابق مزید مقامی اقسام تیار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ درآمدی اقسام کے مقابلے میں مقامی ماحول سے بہتر مطابقت رکھتی ہیں۔ان کے مطابق کاشت کے طریقہ کار، کھادوں کا مناسب استعمال خصوصاً پوٹاش کی قسم اور فصل کی برداشت کا وقت بھی آلو میں خشک مادے کے تناسب پر اثر انداز ہوتے ہیں۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فیصل آباد کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر احمد دین نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ پاکستان سالانہ تقریباً ایک کروڑ ٹن آلو پیدا کرتا ہے اور دنیا کے دس بڑے آلو پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے تاہم وہ اب تک پروسیسڈ آلو کی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی عالمی منڈی سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا سکا۔انہوں نے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ کم خشک مادہ رکھنے والی آلو کی اقسام کی کاشت ہے جو چپس اور فرنچ فرائز کی تیاری کے لئے موزوں نہیں ہوتیں۔ڈاکٹر احمد دین کے مطابق 20 فیصد سے زیادہ خشک مادہ رکھنے والی آلو کی اقسام فرنچ فرائز کی تیاری کے لئے زیادہ موزوں سمجھی جاتی ہیں کیونکہ یہ کم تیل جذب کرتی ہیں جس سے تیار شدہ مصنوعات زیادہ خستہ اور بہتر معیار کی ہوتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت پروسیسنگ صنعت چپس اور فرنچ فرائز کی تیاری کے لئے زیادہ تر درآمدی اقسام، جیسے سانتے، لیڈی روزیٹا، کارڈینل اور ایسٹرکس پر انحصار کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ زیادہ خشک مادہ رکھنے والی مقامی اقسام کی پیداوار میں اضافہ نہ صرف اضافی آلو کو ویلیو ایڈیشن کے ذریعے استعمال میں لانے میں مدد دے گا بلکہ اس سے کسانوں اور پروسیسنگ صنعت دونوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔








