گلگت بلتستان میں بارشوں اور سیلاب سے 184 گھر متاثر، 9 پل اور متعدد سڑکیں تباہ ہوئیں، رپورٹ

"گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق حالیہ مون سون بارشوں، فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ، گلیشیائی جھیلوں سے پانی کے اخراج اور دریائی کٹاؤ کے باعث گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں۔”

گلگت۔ 28 جولائی (اے پی پی):گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے ) کی رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں حالیہ مون سون بارشوں، فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ، گلیشیائی جھیلوں سے پانی کے اخراج اور دریائی کٹاؤ کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

منگل کو یہاں جاری جی بی ڈی ایم اے کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں اب تک 60 قدرتی آفات ریکارڈ کی جا چکی ہیں جبکہ امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔رپورٹ کے مطابق قدرتی آفات سے مجموعی طور پر 184 رہائشی مکانات متاثر ہوئے، جن میں 135 کو جزوی جبکہ 49 گھروں کو مکمل نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ 9 پل تباہ، 7.86 کلومیٹر سڑکیں شدید متاثر، متعدد آبپاشی نہریں، حفاظتی پشتے اور عوامی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا جبکہ 68 مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں جس سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دیامر، غذر، گلگت، اسکردو، استور، ہنزہ، نگر اور گانچھے قدرتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع ہیں، جہاں کئی دیہات میں رابطہ سڑکیں بند ہونے، پل بہہ جانے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث آمدورفت اور امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آئیں۔جی بی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، پاک فوج، ایف ڈبلیو او، این ایچ اے اور دیگر متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی بحالی، متاثرین کی محفوظ مقامات پر منتقلی، خوراک، خیموں اور دیگر امدادی سامان کی فراہمی سمیت بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ کئی مقامات پر بھاری مشینری کے ذریعے بند شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے بحال کیا جا رہا ہے جبکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔جی بی ڈی ایم اے نے عوام، سیاحوں اور مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ بارشوں کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، دریا، ندی نالوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔