وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی کانگریس کے وفد کی ملاقات، امریکہ کے ساتھ دیرینہ شراکت داری کو مضبوط بنانے کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ

"وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امریکہ کے ساتھ دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، آئی ٹی، کان کنی و معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔”

اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امریکہ کے ساتھ دیرینہ شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، آئی ٹی، کان کنی و معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔

منگل کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریان زنکے اور مائیکل بومگارٹنر پر مشتمل امریکی کانگریس کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے وزیراعظم ہائوس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر بھی موجود تھیں۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے امریکی کانگریس ارکان کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور کہا کہ ان کا دورہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان مضبوط تعلقات کے قیام کی جانب ایک خوش آئند پیشرف ہے۔ امریکی آزادی کی 250 ویں سالگرہ پر کانگریس ارکان اور امریکی عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیراعظم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کی اس جرات مندانہ اور فیصلہ کن مداخلت کا ذکر بھی کیا جس کے نتیجے میں مئی 2025ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ ہوا اور جنگ بندی عمل میں آئی اور جس نے کروڑوں زندگیاں بچانے میں مدد کی۔ دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، آئی ٹی، کان کنی و معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں امریکہ کے ساتھ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔ دونوں کانگریس ارکان نے دورے کے دوران پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاکستانی قیادت کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں جس کے دو طرفہ تعلقات پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے علاقائی امن کی کوششوں میں پاکستان کے کلیدی کردار پر وزیراعظم کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کے دورے کرنے والے کانگریسی وفود اور امریکہ کا دورہ کرنے والے پارلیمانی وفود کی تعداد میں اضافے پر اتفاق کیا۔ملاقات کے بعد وزیراعظم نے پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکی کارپوریٹ سیکٹر کے ایگزیکٹوز کے وفد کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔وفد میں آئی ٹی اور ٹیکنالوجی، توانائی، کان کنی اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں کے نمائندے شامل تھے۔ وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے امریکہ کے ساتھ دیرینہ شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اقتصادی تعاون دو طرفہ تعلقات کا مرکزی ستون ہے۔ انہوں نے مزید امریکی کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ مختلف شعبوں میں باہمی طور پر فائدہ مند منصوبوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی جس کی نمائندگی دورہ کرنے والے امریکی کاروباری وفد میں نمایاں طور پر موجود ہے، پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کرتی ہے۔ استقبالیہ میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔