بھارتی سپریم کورٹ کا نوجوان مظاہرین کے خلاف کارروائی روکنے اور نابالغ افراد کی رہائی کاحکم

"بھارتی سپریم کورٹ نے نوجوان مظاہرین کے خلاف جابرانہ کارروائیاں روکنے اور نابالغ افراد کی رہائی کا حکم دیتے ہوئے مظاہروں کے دوران پولیس کارروائیوں سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت نے متعلقہ ریاستوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایف آئی آرز پر تعزیری کارروائی روکنے اور تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی یا ایس آئی ٹی تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔”

نئی دہلی ۔28جولائی (اے پی پی):بھارتی سپریم کورٹ نے حال ہی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے والے نوجوانوں کےخلاف جابرانہ کارروائیاں روکنے اور نابالغ افراد کو رہاکرنے کا حکم دیا ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کے تشدد کیخلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے حکم دیا کہ نوجوانوں کے خلاف درج ایف آئی آر زپر کوئی تعزیری کارروائی نہ کی جائے۔اس کے ساتھ ہی مرکز سمیت 7 ریاستوں کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے جبکہ حکام کو مظاہروں میں شریک افراد کا ڈیجیٹل اور ذاتی ڈیٹا محفوظ رکھنے اور عوام کےسامنے ظاہر نہ کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے اور جوابدہی بھی طے ہونی چاہیے، طلباءنے اپنے مطالبات پر احتجاج کیا تھا اور احتجاج ان کاآئینی حق ہے۔بھارتی چیف جسٹس نے کہا مظاہروں میں ہمیشہ کچھ شرپسند عناصر اپنے مقاصد کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ انتہائی محتاط الفاظ میں بھی کہا جائے تو آزادانہ تحقیقات کی ضرورت واضح طور پر نظر آتی ہے اور اس کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی یا ایس آئی ٹی تشکیل دی جائے گی۔ درخواست گزاروں نے پولیس اور پیراملٹری فورسز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جن پر الزام ہے کہ انہوں نے دارالحکومت نئی دہلی اور دیگر شہروں میں کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے مظاہروں کے دوران ضرورت سے زیادہ طاقت اور پیلٹ گنز کا استعمال کیا۔