"عالمی یومِ ہیپاٹائٹس کے موقع پر ملتان میں آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہیپاٹائٹس سے بچاؤ، بروقت تشخیص، ویکسینیشن اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔”
قومی فٹبال ٹیم پہلی مرتبہ فیفا آسیان کپ میں شرکت کرے گی، صدرپاکستان فٹبال فیڈریشن

مزید خبریں
لاہور۔28جولائی (اے پی پی):قومی فٹبال ٹیم پہلی مرتبہ فیفا کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے افتتاحی فیفا آسیان کپ میں شرکت کرے گی۔ یہ ٹورنامنٹ ستمبر اور اکتوبر میں منعقد ہوگا، جس میں مجموعی طور پر 14 ٹیمیں حصہ لیں گی جبکہ پاکستان ان آٹھ ٹیموں میں شامل ہے جو انڈونیشیا میں کھیلی جانے والے مرکزی مقابلوں کا حصہ ہوں گی۔ پاکستان ان تین غیر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں شامل ہے جنہیں خصوصی دعوت دی گئی ہے۔پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید محسن گیلانی نے اس موقع پر فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی قومی ٹیم کے فیفا سیریز میں شرکت کے بعد اب مردوں کی ٹیم کو بھی پہلی مرتبہ کسی فیفا ایونٹ میں شرکت کا موقع مل رہا ہے، جو پاکستان فٹبال کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیفا آسیان کپ قومی ٹیم کو خطے کی مضبوط ٹیموں کے خلاف مسابقتی میچز کھیلنے کا بہترین موقع فراہم کرے گا اور یہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کے اس عزم کا اظہار بھی ہے کہ قومی ٹیموں کو زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ دلایا جائے۔فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے اپنے بیان میں کہا کہ فیفا آسیان کپ کا مقصد مردوں کے بین الاقوامی میچ کیلنڈر کے دوران قومی ٹیموں کو معیاری اور بامقصد مسابقتی مواقع فراہم کرنا، جنوب مشرقی ایشیا میں فٹبال تعلقات کو مضبوط بنانا اور شائقین کو اعلی معیار کی بین الاقوامی فٹبال سے لطف اندوز ہونے کا موقع دینا ہے۔ٹورنامنٹ دو درجوں پر مشتمل ہوگا۔ فیفا آسیان کپ کی میزبانی انڈونیشیا کرے گا، جہاں پاکستان کے علاوہ ملائیشیا، بھارت، فلپائن، سنگاپور اور تھائی لینڈ سمیت دیگر ٹیمیں شریک ہوں گی، جبکہ فیفا آسیان چیلنج کپ کی میزبانی ہانگ کانگ کرے گا، جس میں برونائی دارالسلام، کمبوڈیا، لاس، میانمار اور تیمور لیستے کی ٹیمیں حصہ لیں گی۔ٹیموں کو فیفا/کوکا کولا مردوں کی عالمی درجہ بندی کی بنیاد پر گروپس میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ مقابلے متوازن رہیں۔ دونوں مقابلوں میں دو، دو گروپس ہوں گے، جہاں سنگل راونڈ رابن فارمیٹ کے تحت میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر گروپ کی فاتح ٹیم فائنل میں پہنچے گی جبکہ رنر اپ ٹیمیں تیسری پوزیشن کے لیے مدمقابل ہوں گی۔سید محسن گیلانی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان بڑے خواب دیکھے۔ ہم صرف ترقیاتی نوعیت کے مقابلوں تک محدود رہنے پر یقین نہیں رکھتے بلکہ پاکستان اب بڑی ٹیموں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے اور قومی فٹبال عالمی سطح پر اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلا رہا ہے۔







