سپریم کورٹ نےکالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے مبینہ تعلق کے مقدمے میں گرفتار ملزم بلال کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد کر دی،دوران سماعت عدالت نے استغاثہ سے ملزم اور کالعدم تنظیم کے درمیان تعلق سے متعلق شواہد پر سوالات اٹھائے۔
سپریم کورٹ نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی سے مبینہ تعلق کے ملزم بلال کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نےکالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے مبینہ تعلق کے مقدمے میں گرفتار ملزم بلال کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد کر دی،دوران سماعت عدالت نے استغاثہ سے ملزم اور کالعدم تنظیم کے درمیان تعلق سے متعلق شواہد پر سوالات اٹھائے۔
جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے مزید دستاویزات جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ کیس میں خودکش بمبار سے ملزم کے مبینہ تعلق سے متعلق ریکارڈ عدالت میں پیش کرنا ہے۔اس موقع پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے ملزم کا بی ایل اے سے رابطہ کیسے جوڑ دیا؟انہوں نے کہا کہ ملزم ایک بینک منیجر ہے، صرف گاڑی کی خریداری کے لیے رقم منتقل کرنا کیسے جرم بن سکتا ہے۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے مزید ریمارکس دئیے کہ بینک منیجر نے تو صرف رقم منتقل کی، بینک افسر کو کیا معلوم کہ گاڑی کسی دھماکے میں استعمال ہوگی۔عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ وہ واضح کریں کہ ملزم بلال کا کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی سے مبینہ تعلق کیاہے اور اس حوالے سے قابل اعتماد شواہد پیش کیے جائیں۔استغاثہ کے مطابق ملزم کے خلاف محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کراچی میں مقدمہ درج ہے، تاہم سپریم کورٹ نے ملزم کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔








