ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ سجاد حیدر نے کہا ہے کہ خوردنی تیل کی ملکی پیداوار بڑھانے، درآمدی انحصار کم کرنے اور کاشتکاروں کی آمدن میں اضافے کے لیے تیلدار اجناس کی زیادہ سے زیادہ رقبے پر کاشت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تیلدار اجناس کی بروقت کاشت سے پیداوار اور منافع میں اضافہ ممکن، کاشتکار منظور شدہ اقسام کاشت کریں، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت سیالکوٹ

مزید خبریں
سیالکوٹ۔29جولائی (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ سجاد حیدر نے کہا ہے کہ خوردنی تیل کی ملکی پیداوار بڑھانے، درآمدی انحصار کم کرنے اور کاشتکاروں کی آمدن میں اضافے کے لیے تیلدار اجناس کی زیادہ سے زیادہ رقبے پر کاشت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ منظور شدہ اقسام کاشت کرکے بہتر پیداوار اور زیادہ مالی فائدہ حاصل کریں۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ توریا اے اور رایا انمول زائد خریف کی فصلیں ہیں، جبکہ پیلا رایا، سرسوں، ڈی جی ایل، چکوال رایا اور خانپور رایا موسم ربیع کی فصلیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زائد خریف کی فصل توریا اے کی کاشت فوری شروع کرکے وسط ستمبر تک مکمل کر لینی چاہیے، جبکہ جن کاشتکاروں نے گندم سے قبل رایا انمول کاشت کرنا ہو، وہ اس کی بوائی اگست کے دوران مکمل کریں۔سجاد حیدر نے کہا کہ تیلدار اجناس کی زیادہ پیداوار کے لیے بروقت کاشت، معیاری اور صحت مند بیج کا استعمال نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 20 سے 32 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت رایا انمول کے اگاؤ کے لیے موزوں ہے۔ رایا انمول کم دورانیے کی فصل ہے، جو دیگر تیلدار اجناس کے مقابلے میں زیادہ پیداوار اور بہتر منافع دیتی ہے، جبکہ اس میں تیل کی مقدار تقریباً 39 فیصد ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رایا انمول کی کاشت کے لیے 2 کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال کیا جائے۔ بوائی کے 15 سے 20 دن بعد پہلا پانی، پھول نکلنے کے وقت دوسرا اور بیج بننے کے مرحلے پر تیسرا پانی دینا چاہیے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اوسط زرخیز زمین میں فی ایکڑ 23 کلوگرام نائٹروجن، 23 کلوگرام فاسفورس اور 12 کلوگرام پوٹاش بوقت کاشت استعمال کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فصل کی کاشت تروتر حالت میں پور یا ڈرل کے ذریعے کی جائے اور اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ بیج زیادہ گہرائی میں نہ جائے، کیونکہ اس سے روئیدگی متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ڈرل کے ذریعے کاشت کی صورت میں لائن سے لائن کا فاصلہ 45 سینٹی میٹر رکھا جائے، جبکہ اگر ڈرل یا پور دستیاب نہ ہو تو ہل چلانے کے بعد چھٹہ کاشت کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پودے چار پتے نکال لیں تو چھدرائی کرکے پودے سے پودے کا فاصلہ 10 سے 15 سینٹی میٹر رکھا جائے، جبکہ جڑی بوٹیوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے پہلے پانی سے قبل گوڈی ضرور کی جائے۔








