پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین مولانا طاہر اشرفی نے علماء کرام سے ملک کی خودمختاری کےلیے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ عسکریت پسندی اور انتہاپسندی کے خاتمے کےلیے کام کرنا ہر شہری کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
علماء کرام ملک کی خودمختاری کےلیے متحد ہو ں ، عسکریت پسندی اور انتہا پسندی کے خاتمے کےلیے کام کرنا اجتماعی ذمہ داری ہے، مولانا طاہر اشرفی

مزید خبریں
پشاور۔ 29 جولائی (اے پی پی):پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین مولانا طاہر اشرفی نے علماء کرام سے ملک کی خودمختاری کےلیے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ عسکریت پسندی اور انتہاپسندی کے خاتمے کےلیے کام کرنا ہر شہری کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پشاور میں پیس کمیٹی پاکستان کے زیر اہتمام ‘پیغامِ امن علماء و مشائخ’ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس میں ملک بھر سے ممتاز علماء کرام اور سکالرز نے شرکت کی جن میں چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل محمد راغب نعیمی، مفتی عبد الرحیم، مولانا طیب قریشی اور دیگر شامل تھے۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی کانفرنس میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
کانفرنس کا اعلامیہ پڑھتے ہوئے مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ ملک کی خودمختاری، آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ اور عسکریت پسندی و انتہا پسندی کا خاتمہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ دینِ اسلام انسانیت کے تحفظ کو اہمیت دیتا ہے اور بے گناہ و بے قصور لوگوں کے قتل کی نفی کرتا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ ہم ملک میں امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کےلیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم انتہا پسندی، عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ یہ وہ چند عوامل ہیں جو ہماری قومی شناخت اور یکجہتی کو منفی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سکیورٹی فورسز، پولیس اور رینجرز کو ان کی قربانیوں پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور ان شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں جنہوں نے مادرِ وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ کانفرنس اس بات پر متفق ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کا رویہ ہمارے دین کی روایت کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کے مقدس مقامات اور شخصیات کا احترام کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوئی سیاسی وابستگیاں نہیں ہیں بلکہ ہم معاشرے میں امن کےلیے کام کرنے اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر ہیں۔ انہوں نے علماء پر بھی زور دیا کہ وہ نوجوان نسل کی تربیت کےلیے اپنا کردار ادا کریں اور انہیں آئین کی بالادستی اور ملک کی خودمختاری و امن کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نوجوانوں کو ان کے فرائض سے آگاہ کرنا چاہیے اور ان میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔
انہوں نے اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کےلیے عوام اور علماء سے حمایت کی اپیل بھی کی اور کہا کہ ہم دینی مدارس کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مولانا طاہر اشرفی نے جہاد کے نام پر بے گناہوں کے قتل کو بھی رد کر دیا اور کہا کہ ہم پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کے حقوق کا بھی تحفظ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسے ہر شخص سے مذاکرات کےلیے تیار ہیں جو ریاست کی حاکمیت اور اس کے آئین کو تسلیم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان عناصر کے خلاف ہیں جو ملک کی خودمختاری اور یکجہتی کے مخالف ہیں۔








