وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت قومی ٹاسک فورس برائے لائف سٹائل میڈیسن کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پہلے اجلاس کے فیصلوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور پاکستان کے صحت کے نظام میں لائف سٹائل میڈیسن کو موثر انداز میں شامل کرنے کے لیے اہم پالیسی فیصلے کیے گئے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت قومی ٹاسک فورس برائے لائف سٹائل میڈیسن کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت قومی ٹاسک فورس برائے لائف سٹائل میڈیسن کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پہلے اجلاس کے فیصلوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور پاکستان کے صحت کے نظام میں لائف سٹائل میڈیسن کو موثر انداز میں شامل کرنے کے لیے اہم پالیسی فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں سابق معاون خصوصی برائے صحت اور پاکستان ایسوسی ایشن آف لائف سٹائل میڈیسن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ظفر مرزا، وزارت صحت کے اعلیٰ حکام اور قومی ٹاسک فورس کے اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران ماہرین نے غیر متعدی امراض (این سی ڈیز) کی موثر روک تھام، صحت مند طرز زندگی کے فروغ اور عوامی آگاہی کے حوالے سے مختلف تجاویز پر تفصیلی غور کیا۔وفاقی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ لائف سٹائل میڈیسن کو ملک کے طبی تعلیمی نظام کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے نصاب میں لائف سٹائل میڈیسن کو شامل کرے جبکہ نصاب کی تیاری اور سفارشات مرتب کرنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
قومی ٹاسک فورس نے سفارش کی کہ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (سی پی ایس پی) کے پوسٹ گریجویٹ اور ریزیڈنسی ٹریننگ پروگرامز میں بھی لائف سٹائل میڈیسن کو نصاب کا حصہ بنانے کے لیے رابطہ کیا جائے۔وزیر صحت نے وزارت صحت کے احاطے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت صحت مند فوڈ کیوسک کے قیام کی منظوری بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام صحت بخش خوراک کے فروغ کے لیے ایک مثالی ماڈل ثابت ہوگا جسے مستقبل میں دیگر سرکاری اداروں تک بھی توسیع دی جا سکے گی۔
مصطفیٰ کمال نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں غیر متعدی امراض کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، تمباکو نوشی سے اجتناب، ذہنی صحت اور صحت مند طرز زندگی کو قومی صحت کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ وزارت صحت طبی تعلیم میں اصلاحات، سرکاری اداروں میں صحت مند ماحول کے فروغ اور عوامی سطح پر آگاہی مہم کو مزید موثر انداز میں جاری رکھے گی تاکہ صحت مند پاکستان کے وژن کو عملی شکل دی جا سکے۔








