فاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے قومی نصاب کونسل ونگ (این سی سی ڈبلیو) نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) پاکستان اور ایکٹ انٹرنیشنل کے تعاون سے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) میں گریڈ چہارم کے طلبہ کے لیے ڈیجیٹل لائف سکلز بیسڈ ایجوکیشن (ایل ایس بی ای) لرننگ مینجمنٹ سسٹم (ایل ایم ایس) پائلٹ پروگرام کا آغاز کر دیا …
اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں گریڈ چہارم کے طلبہ کیلئے ڈیجیٹل لائف سکلز بیسڈ ایجوکیشن لرننگ مینجمنٹ سسٹم پائلٹ پروگرام کا آغاز

مزید خبریں
اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے قومی نصاب کونسل ونگ (این سی سی ڈبلیو) نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) پاکستان اور ایکٹ انٹرنیشنل کے تعاون سے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) میں گریڈ چہارم کے طلبہ کے لیے ڈیجیٹل لائف سکلز بیسڈ ایجوکیشن (ایل ایس بی ای) لرننگ مینجمنٹ سسٹم (ایل ایم ایس) پائلٹ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد بچوں میں زندگی کی بنیادی مہارتوں کو فروغ دینا، جدید تدریسی ذرائع کو فروغ دینا اور تعلیمی نظام میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کو یقینی بنانا ہے۔افتتاحی تقریب اسلام آباد کالج فار بوائز، جی-6/3 میں منعقد ہوئی جس میں وفاقی سیکرٹری وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ندیم محبوب نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں یو این ایف پی اے پاکستان کے نمائندوں، ترقیاتی شراکت داروں، تعلیمی ماہرین، سکول سربراہان اور اساتذہ نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری ندیم محبوب نے کہا کہ حکومت پاکستان تعلیمی شعبے میں جدت، ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم صرف نصابی کامیابی تک محدود نہیں بلکہ طلبہ کو ایسی عملی زندگی کی مہارتوں سے آراستہ کرنا بھی ضروری ہے جو انہیں تنقیدی سوچ، موثر ابلاغ، بہتر فیصلہ سازی، مسائل کے حل اور ذمہ دار شہری بننے میں مدد فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ گریڈ چہارم کے لائف سکلز نصاب کو لرننگ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے ڈیجیٹل شکل دینا بچوں کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل لائف سکلز بیسڈ ایجوکیشن اقدام کے تحت متعارف کرایا جانے والا لرننگ مینجمنٹ سسٹم گریڈ چہارم کے طلبہ کو عمر کے مطابق، صنفی حساس اور باہمی تعامل پر مبنی نصاب فراہم کرے گا جبکہ اساتذہ کو جدید تدریسی وسائل میسر آئیں گے۔ ان کے مطابق اس پلیٹ فارم سے طلبہ کے لیے دلچسپ، موثر اور طالب علم پر مرکوز تعلیمی ماحول پیدا ہوگا جس سے تعلیمی نتائج اور تدریسی معیار میں بہتری آئے گی۔ حکام کے مطابق تین ماہ پر مشتمل یہ پائلٹ منصوبہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے 20 سکولوں میں نافذ کیا جائے گا جن میں وفاقی نظامت تعلیم (ایف ڈی ای) کے آٹھ اور پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) اور جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کے تعاون سے منتخب 12 نجی سکول شامل ہیں۔ منصوبے کے دوران سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی افادیت، استعمال اور تعلیمی اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ایک جامع تحقیقی و جائزہ مطالعہ بھی کیا جائے گا جس میں طلبہ کے تعلیمی نتائج، اساتذہ کے تجربات اور منصوبے کی موثریت کا تجزیہ کیا جائے گا۔ حاصل ہونے والے شواہد مستقبل کی پالیسی سازی، پروگرام میں بہتری اور مرحلہ وار دیگر جماعتوں اور ملک کے مختلف علاقوں تک اس کے دائرہ کار کو وسعت دینے میں معاون ثابت ہوں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یو این ایف پی اے پاکستان کی ڈپٹی نمائندہ ڈاکٹر گلنار قادر نے نوجوانوں اور نو عمر بچوں کی صحت، فلاح و بہبود اور بااختیار بنانے کے لیے ادارے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ لائف سکلز بیسڈ ایجوکیشن نوجوانوں کو وہ علم، اقدار اور عملی مہارتیں فراہم کرتی ہے جن کی بدولت وہ اپنی زندگی میں باخبر فیصلے کرنے کے قابل بنتے ہیں اور ملکی سماجی و معاشی ترقی میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لائف سکلز تعلیم طلبہ میں خود اعتمادی، تنقیدی سوچ، موثر ابلاغ، ہمدردی، تنوع کے احترام اور جسمانی و ذہنی صحت سے متعلق شعور پیدا کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس نصاب کو ڈیجیٹل لرننگ مینجمنٹ سسٹم کا حصہ بنانے سے معیاری، عمر کے مطابق اور پائیدار تعلیمی وسائل اساتذہ اور طلبہ دونوں کے لیے آسانی سے دستیاب ہوں گے جبکہ تدریس مزید موثر، باہمی تعامل پر مبنی اور طالب علم کے مرکز میں ہوگی۔ ڈاکٹر گلنار قادر نے حکومت پاکستان، یو این ایف پی اے اور ایکٹ انٹرنیشنل کے درمیان مضبوط شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا کہ تین ماہ پر مشتمل یہ پائلٹ منصوبہ مستقبل کی پالیسی سازی کے لیے اہم شواہد فراہم کرے گا اور لائف سکلز بیسڈ ایجوکیشن کو قومی نصاب میں مزید مضبوط انداز میں شامل کرنے اور مرحلہ وار ملک بھر میں توسیع دینے کی راہ ہموار کرے گا۔
تقریب کے دوران ڈیجیٹل لائف سکلز بیسڈ ایجوکیشن منصوبے پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن بھی دی گئی جس میں لرننگ مینجمنٹ سسٹم کی نمایاں خصوصیات، گریڈ چہارم کے پائلٹ پروگرام کے نفاذ کی حکمت عملی اور مستقبل کے توسیعی منصوبوں سے شرکاء کو آگاہ کیا گیا۔ شرکا نے پروگرام کے روڈ میپ، متوقع نتائج اور قومی سطح پر اس کے ممکنہ اطلاق پر بھی تبادلہ خیال کیا۔تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ قومی نصاب کونسل ونگ، وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، یو این ایف پی اے پاکستان اور ایکٹ انٹرنیشنل کی مشترکہ کاوشوں سے تعلیم میں جدت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فروغ اور ہر بچے کو معیاری، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے مقصد کو آگے بڑھایا جائے گا۔








