بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاہب رواداری کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، گورنر خیبرپختونخوا

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاہب رواداری کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، ہمیں اپنی نئی نسل کو مستقبل کے حوالے سے بہتر راستہ دکھانا ہوگا، جس میں علماء کا کردار انتہائی اہم ہے، علماء نئی نسل کی فکری رہنمائی کریں اور انہیں اسلام کے حقیقی اصولِ زندگی سے روشناس کرائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور …

پشاور۔ 29 جولائی (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاہب رواداری کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، ہمیں اپنی نئی نسل کو مستقبل کے حوالے سے بہتر راستہ دکھانا ہوگا، جس میں علماء کا کردار انتہائی اہم ہے، علماء نئی نسل کی فکری رہنمائی کریں اور انہیں اسلام کے حقیقی اصولِ زندگی سے روشناس کرائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں قومی پیغامِ امن علماء و مشائخ کانفرنس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

کانفرنس میں وزیرِ اعظم کے رابطہ کار برائے قومی پیغامِ امن کمیٹی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، مولانا طیب قریشی، مولانا یوسف شاہ، بشپ ھمفرے سرفراز، ہارون سرب دیال، علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری، علامہ عارف حسین واحدی اور مفتی عبدالرحیم سمیت مختلف مکاتب فکر کے علماء اور اقلیتی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ گورنر نے قومی پیغامِ امن کمیٹی کی قیادت کو کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد دی اور کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل ملکی بقاء، سلامتی اور عظمت کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں، ہمیں اپنی بہادر افواج پر فخر ہے، بھارت کو منہ توڑ جواب دے کر پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر بھی فیلڈ مارشل کے قیامِ امن کے کردار کے معترف ہیں، ایران ، امریکہ جنگ کے دوران پاکستان نے سفارتی محاذ پر فعال کردار ادا کیا۔ صدر مملکت، وزیراعظم، فیلڈ مارشل، نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی کاوشوں سے اسلام آباد امن معاہدہ ممکن ہوا۔ گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ ہماری مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے۔ سعودی عرب، قطر اور دیگر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون اور دفاعی معاہدوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن افسوس کہ ہم خود ہی اپنی افواج پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کے لیے گورنر ہاؤس کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، یہ ہم سب کا مشترکہ مشن ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیام امن کے مشن کی تکمیل کے لیے پوری قوم متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن، رواداری اور اتحاد کا فروغ جبکہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کا خاتمہ ناگزیر ہے، ریاست دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کر سکتی ہے، لیکن دہشت گردی کی سوچ اور فکر کے خاتمے میں منبر و محراب، مسجد و خانقاہ کا کردار اہم ہے۔ گورنر فیصل کنڈی نے کہا کہ ہم ملک کی اقلیتوں کے جذبۂ حب الوطنی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، متحد اور مضبوط قوم اختلاف برائے اختلاف کے بجائے اختلاف برائے اصلاح پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی امن کے بعد جب دنیا کا کاروباری طبقہ پاکستان کا رخ کرے گا تو ہمیں سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا، خیبرپختونخوا پورے ملک میں سب سے زیادہ وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، یہاں پائیدار امن ناگزیر ہے۔

خیبرپختونخوا میں امن ہوگا تو صوبہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ گورنر نے کہا کہ ہم نے افغانستان کے بھائیوں کو 40 سال تک سینے سے لگایا اور ان کی مہمان نوازی کی، تاہم افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی ناقابلِ قبول ہے، افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جانا تشویشناک ہے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بدامنی پاکستان دشمن قوتوں کی سازش ہے تاکہ خطے کے وسائل سے پاکستان کو فائدہ نہ پہنچ سکے، صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مل کر کام کرنے پر یقین رکھتا ہوں۔