مالی سال 2026 کے دوران دستاویزی تمباکو شعبے نے 41 ارب روپے اضافی ٹیکس ادا کیا ،مجموعی ٹیکس وصولیاں 357 ارب روپے تک پہنچ گئیں، فیئر ٹریڈ ان ٹوبیکو

"فیئر ٹریڈ اِن ٹوبیکو کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران دستاویزی تمباکو شعبے نے 41 ارب روپے اضافی ٹیکس ادا کیا، جس کے بعد شعبے سے مجموعی ٹیکس وصولیاں بڑھ کر 357 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔”

اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):ملک میں تمباکو صنعت کی نمائندہ تنظیم فیئر ٹریڈ ان ٹوبیکو (ایف ٹی ٹی) نے کہا ہے کہ غیر قانونی سگریٹ سازی اور سمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیوں کے نتیجے میں مالی سال 2025-26 کے دوران دستاویزی تمباکو شعبے نے 41 ارب روپے اضافی ٹیکس ادا کیا جس سے مجموعی ٹیکس وصولیاں بڑھ کر 357 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔

ایف ٹی ٹی نے بدھ کو جاری ایک اعلامیہ میں کہا کہ ٹیکس وصولیوں میں یہ اضافہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے ٹیکس چوری اور بغیر ٹیکس سٹیمپ والے سگریٹوں کی فروخت کے خلاف موثر کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ایف ٹی ٹی کے چیئرمین محمد امین نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران دستاویزی تمباکو شعبے نے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ، جنرل سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی مد میں 357 ارب روپے ادا کیے جبکہ اس سے گزشتہ مالی سال میں یہ رقم 315 ارب روپے تھی۔تنظیم کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور جنرل سیلز ٹیکس کی وصولیاں بڑھ کر 329 ارب روپے ہو گئیں جو ایک سال قبل 284 ارب روپے تھیں۔تنظیم کے مطابق پاکستان ٹوبیکو کمپنی نے مالی سال 2025-26 کے دوران 260.7 ارب روپے ٹیکس ادا کیا جبکہ مالی سال 2024-25میں اس نے 222 ارب روپے ٹیکس جمع کرایا تھا۔ اسی طرح فلپ مورس پاکستان نے تقریباً 52.2 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔محمد امین نے ٹیکس آمدن میں اضافے کو مختلف نفاذی اقدامات کا نتیجہ قرار دیا جن میں گرین لیف تھریشنگ یونٹس پر حکام کی تعیناتی، ایڈوانس ٹیکس کی شرط پر عمل درآمد، غیر اعلانیہ پیداوار کے خلاف کارروائیاں اور صوبائی سطح پر بغیر ٹیکس سٹیمپ والے سگریٹ پیکٹس کے خلاف آپریشنز شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں نافذ کیے گئے اقدامات خاص طور پر موثر ثابت ہوئے ۔ٹیکس وصولیوں میں بہتری کے باوجود ایف ٹی ٹی کا اندازہ ہے کہ غیر قانونی اور سمگل شدہ سگریٹ اب بھی ملکی مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ ہیں جس کے باعث قومی خزانے کو ہر سال تقریباً 400 ارب روپے کے محصولات کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔محمد امین نے زور دیا کہ سرحد پار سگریٹ سمگلنگ سے منسلک مالیاتی لین دین کا بھی جائزہ لیا جائے کیونکہ غیر دستاویزی مالی سرگرمیوں کے اثرات صرف ٹیکس چوری تک محدود نہیں ہو سکتے۔تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی سگریٹ سازوں، تقسیم کاروں اور خوردہ فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوششوں کو ترجیح دیتے ہوئے نفاذی مہم کو جاری رکھا جائے۔چیئرمین محمد امین نے کہا کہ تمباکو پراسیسنگ یونٹس، پیداواری کارخانوں، نقل و حمل کے راستوں، گوداموں اور ریٹیل آئوٹ لیٹس کی سخت نگرانی اور صوبائی حکومتوں و ایف بی آر کی مربوط کارروائیوں کے ذریعے آئندہ برسوں میں تمباکو شعبے سے ٹیکس وصولیاں 575 ارب سے 600 ارب روپے تک بڑھائی جا سکتی ہیں۔