اسلام آباد پولیس کے 111 سب انسپکٹرز اور اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کو اگلے عہدوں پر ترقی دے دی گئی

اسلام آباد پولیس کے 111 سب انسپکٹرز اور اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کو اگلے عہدوں پر ترقی دے دی گئی ۔پولیس ترجمان کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی خصوصی دلچسپی اور ہدایات پر اسلام آباد پولیس میں بڑے پیمانے پر محکمانہ ترقیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):اسلام آباد پولیس کے 111 سب انسپکٹرز اور اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کو اگلے عہدوں پر ترقی دے دی گئی ۔پولیس ترجمان کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی خصوصی دلچسپی اور ہدایات پر اسلام آباد پولیس میں بڑے پیمانے پر محکمانہ ترقیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی سلسلے میں محکمانہ ترقی کمیٹی کے مختلف اجلاس منعقد کیے گئے، جن میں خالی آسامیوں پر میرٹ، شفافیت، سنیارٹی اور پیشہ ورانہ اہلیت کی بنیاد پر افسران کے سروس ریکارڈ، کارکردگی اور دیگر محکمانہ امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔محکمانہ ترقی کمیٹی کی سفارشات اور آئی جی اسلام آباد کی منظوری کے بعد 37 سب انسپکٹرز کو انسپکٹر جبکہ 74 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کو سب انسپکٹر کے عہدوں پر ترقی دے دی گئی، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔اس موقع پر آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے کہا کہ محکمانہ ترقی پولیس افسران کی محنت، قابلیت، دیانت داری اور پیشہ ورانہ خدمات کا اعتراف ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس افسران کی فلاح و بہبود اور بروقت ترقی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ ہر اہل افسر کو اس کی سنیارٹی، میرٹ اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق ترقی دی جائے گی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ترقی پانے والے افسران مزید جذبے، ایمانداری، احساسِ ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ، جرائم کی موثر روک تھام اور عوام دوست پولیسنگ کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد پولیس میں محکمانہ ترقیوں کا عمل مکمل شفافیت، میرٹ اور انصاف کے اصولوں کے مطابق آئندہ بھی جاری رہے گا تاکہ اہل اور مستحق افسران کی حوصلہ افزائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

دوسری جانب محکمانہ ترقی کمیٹی نے بعض افسران کے کیسز کا بھی جائزہ لیا، تاہم مطلوبہ کورسز کی عدم تکمیل، نامکمل ریکارڈ، ناقص سروس ریکارڈ، غیر تسلی بخش کارکردگی، دیانت اور مجموعی ساکھ سمیت دیگر محکمانہ وجوہات کی بنا پر 18 سب انسپکٹرز اور سات اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کی ترقی کی سفارش نہیں کی گئی۔ ایسے افسران کو اپنی پیشہ ورانہ کارکردگی اور محکمانہ ریکارڈ بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی تاکہ وہ آئندہ ترقی کے لیے اہل قرار پا سکیں۔