ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے نیشنل اسکلز کمپیٹنسی ٹیسٹ (این ایس سی ٹی) کے بعد کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور اعلیٰ تعلیم میں مہارت پر مبنی تعلیم اور نصابی اصلاحات کو فروغ دینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں جامعات کے نصاب کو قومی ترقیاتی ترجیحات اور بدلتی ہوئی افرادی قوت کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ایچ ای سی کا این ایس سی ٹی کے بعد کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور نصابی اصلاحات کو فروغ دینے کیلئے اجلاس کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے نیشنل اسکلز کمپیٹنسی ٹیسٹ (این ایس سی ٹی) کے بعد کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور اعلیٰ تعلیم میں مہارت پر مبنی تعلیم اور نصابی اصلاحات کو فروغ دینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں جامعات کے نصاب کو قومی ترقیاتی ترجیحات اور بدلتی ہوئی افرادی قوت کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے مہارت پر مبنی تعلیم، صنعت اور جامعات کے درمیان مضبوط روابط، اور عملی مہارتوں کو تدریسی نظام کا مؤثر حصہ بنانے کی حکمت عملی زیر بحث آئی۔
چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعات کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے گریجویٹس تیار کریں جو علم کے ساتھ ساتھ عملی مہارتوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے بھی آراستہ ہوں تاکہ وہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ اجلاس کے شرکاء نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مہارت پر مبنی تدریس، جانچ اور اسناد کے نظام کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جامعات کے تعلیمی پروگراموں کو تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی، صنعتی تقاضوں اور عالمی معیارات سے ہم آہنگ رکھا جائے تاکہ فارغ التحصیل طلبہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسابقت کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے نصابی اصلاحات کی رفتار تیز کی جائے گی، نتائج پر مبنی تعلیم (آؤٹ کم بیسڈ ایجوکیشن) کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اعلیٰ تعلیمی نظام کی تشکیل کے لیے تمام متعلقہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔








