ڈیجیٹل میڈیا نوجوان نسل، معیشت اور معاشرےکیلئے بڑا چیلنج، مؤثر ریگولیشن ناگزیر ہے، ڈائریکٹر جنرل پیمرا اکرام برکت
ڈیجیٹل میڈیا نوجوان نسل، معیشت اور معاشرےکیلئے بڑا چیلنج، مؤثر ریگولیشن ناگزیر ہے، ڈائریکٹر جنرل پیمرا اکرام برکت

مزید خبریں
اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل پیمرا اکرام برکت نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا اور مصنوعی ذہانت نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے تاہم اس کے زیادہ استعمال نے نوجوان نسل کی ذہنی صحت، سماجی رویوں، معیشت، قومی سلامتی اور جمہوری عمل کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اپری) کے زیر اہتمام ڈیجیٹل میڈیا کے سماجی اور معاشی اثرات کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا کے لیے شواہد اور اعداد و شمار پر مبنی مؤثر ریگولیٹری نظام تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سیمینار کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اپری کے قائم مقام صدر بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر راشد ولی جنجوعہ نے کہا کہ آج ڈیجیٹل میڈیا عالمی بیانیے کی تشکیل کا سب سے طاقتور ذریعہ بن چکا ہے، دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے غیر محدود اثرات اور اس کی ریگولیشن پر سنجیدہ بحث جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے مسلسل استعمال نے نوجوانوں کی توجہ مرکوز رکھنے اور گہرائی سے سوچنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے جبکہ ٹیکنالوجی کمپنیاں صارفین کو مالی منفعت کے لیے استعمال کر رہی ہیں ۔بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل پیمرا اکرام برکت نے ڈیجیٹل میڈیا کے سماجی و معاشی اثرات پر اپنی تحقیق اور عالمی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت نے صرف دو ماہ میں پانچ کروڑ صارفین حاصل کیے جو جدید ٹیکنالوجی کی غیر معمولی رفتار کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کی تقریباً 69 فیصد آبادی اور 18 سال سے زائد عمر کے 90 فیصد سے زیادہ افراد سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی آبادی تقریباً 257 ملین تک پہنچ چکی ہے، جن میں سے 79.9 ملین افراد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں جبکہ ملک کی 60 فیصد آبادی 34 سال یا اس سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو ڈیجیٹل میڈیا کے سب سے بڑے صارفین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں میں 71.2 فیصد مرد اور 28.8 فیصد خواتین شامل ہیں جبکہ ٹک ٹاک سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پلیٹ فارم ہے، جس کے بعد یوٹیوب، فیس بک، اسنیپ چیٹ اور دیگر پلیٹ فارمز کا نمبر آتا ہے۔اکرام برکت نے بتایا کہ پاکستانی صارفین سالانہ آن لائن ویڈیوز، ویڈیو گیمز اور موسیقی پر کروڑوں ڈالر خرچ کرتے ہیں جبکہ 2019 میں ملک میں تقریباً 800 پیٹا بائٹ ڈیٹا استعمال ہوتا تھا جو 2025 تک بڑھ کر 27 ہزار پیٹا بائٹ سالانہ ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیٹا کے استعمال میں اس غیر معمولی اضافے کے مقابلے میں انفراسٹرکچر مطلوبہ رفتار سے ترقی نہیں کر سکا جس کے باعث انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز صارفین کی ہر سرگرمی، مقام، روابط، دلچسپیوں اور استعمال کے انداز کا ڈیٹا جمع کرتے ہیں جبکہ زیادہ تر صارفین ایپلی کیشنز کی شرائط پڑھے بغیر انہیں رسائی کی اجازت دے دیتے ہیں۔ ان کے مطابق بظاہر مفت سروسز دراصل صارفین کے ڈیٹا سے مالی فائدہ حاصل کرتی ہیں، اس لیے ڈیجیٹل پرائیویسی کے بارے میں عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ڈائریکٹر جنرل پیمرا نے کہا کہ اگرچہ ڈیجیٹل میڈیا نے فری لانسنگ، آن لائن کاروبار اور ڈیجیٹل معیشت کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، تاہم اس کے منفی اثرات بھی تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر معیاری اور نامناسب مواد، بالخصوص بالغ نوعیت کے مواد کے زیادہ استعمال سے معاشرتی رویوں، خواتین کے خلاف تشدد، ہراسانی اور دیگر سماجی مسائل میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
انہوں نے یونیسکو کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے 62 فیصد مواد کی تصدیق نہیں ہوتی جبکہ لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہونے کے باوجود بغیر تحقیق کے معلومات کو آگے شیئر کر دیتے ہیں، جس سے غلط معلومات (Misinformation) اور گمراہ کن پروپیگنڈے (Disinformation) میں اضافہ ہو رہا ہے۔اکرام برکت نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم بھی غلط معلومات کے پھیلاؤ کو دنیا کو درپیش بڑے خطرات میں شمار کرتا ہے کیونکہ یہ سماجی تقسیم، انسانی حقوق، قومی سلامتی، سائبر سکیورٹی، معیشت، صحت اور جمہوری نظام سمیت تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے لیے واضح ریگولیٹری نظام موجود ہے، جبکہ الیکٹرانک میڈیا کی نگرانی پیمرا کے ذریعے کی جاتی ہے تاہم ڈیجیٹل میڈیا کے لیے ابھی تک کوئی جامع اور مربوط ریگولیٹری فریم ورک موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے دور میں "شہری صحافت” ایک نیا چیلنج بن چکی ہے، جہاں ہر شخص اپنے موبائل فون کے ذریعے خبر بنا کر نشر کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے ادارتی نگرانی اور احتساب کا کوئی واضح نظام موجود نہیں۔
اکرام برکت نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کی پالیسی سمیت متعدد ڈیجیٹل قوانین پر مؤثر عملدرآمد اس لیے ممکن نہیں ہو سکا کیونکہ پالیسی سازی میں متعلقہ تکنیکی ماہرین کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کی پالیسی سازی مکمل طور پر اعداد و شمار، تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔انہوں نے ڈیجیٹل میڈیا کے سماجی اثرات کی پیمائش کے لیے ایک جامع انڈیکس تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی جس میں معاشی، سماجی، معلوماتی، قانونی، گورننس اور ذہنی صحت سے متعلق اشاریے شامل کیے جائیں تاکہ ڈیجیٹل میڈیا کے حقیقی اثرات کا سائنسی انداز میں جائزہ لیا جا سکے۔
سیمینار کے اختتام پر ڈائریکٹر جنرل پیمرا نے کہا کہ مستقبل میں سب سے قیمتی سرمایہ تیل یا ڈیٹا نہیں بلکہ "انسانی توجہ” (Human Attention) ہوگی کیونکہ ڈیجیٹل معیشت میں اصل مقابلہ انسان کی توجہ حاصل کرنے کا ہے۔ انہوں نے جامعات، محققین اور پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل میڈیا کے اثرات پر تحقیق کو فروغ دیں تاکہ پاکستان میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ موثر اور متوازن ڈیجیٹل پالیسی تشکیل دی جا سکے۔







