"غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں اگست 2019 میں آرٹیکلز 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد امن، ترقی اور خوشحالی سے متعلق بھارتی دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے، جبکہ گزشتہ سات برس کے دوران خطے کو معاشی، سیاسی اور انسانی حقوق کے متعدد سنگین چیلنجز کا سامنا رہا۔”
یومِ استحصال کشمیر: آرٹیکل 370 کی منسوخی کے سات سال بعد بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے امن و ترقی کے دعوے زمینی حقائق کے منافی

مزید خبریں
اسلام آباد۔31جولائی (اے پی پی):بھارت کی طرف سے غیر قانونی زیر تسلط مقبوضہ جموں وکشمیر میں اگست 2019 میں آرٹیکلز 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں امن، ترقی اور خوشحالی سے متعلق بھارت کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے اور گزشتہ سات برس کے دوران خطے کو معاشی، سیاسی اور انسانی حقوق کے متعدد سنگین چیلنجز کا سامنا رہا۔
سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں نے اس حوالے سے زمینی حقائق کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے آرٹیکلز 370 اور 35A کی منسوخی کو امن، خوشحالی اور مکمل انضمام کی تاریخی کامیابی کے طور پر پیش کیا لیکن سات سال بعد بھی بے روزگاری، معاشی بدحالی، سیاسی بے چینی، شدید عسکریت، آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششیں اور عوامی بے چینی اس سرکاری بیانیے کو چیلنج کرتی ہیں۔محض معاشی اعداد و شمار یا سیاحت کے منتخب اعداد و شمار مقبوضہ جموں و کشمیر کے حقیقی مسائل کو نہیں چھپا سکتے۔ پائیدار امن اور استحکام اسی وقت ممکن ہے جب شہری اور سیاسی حقوق بحال کیے جائیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا احتساب کیا جائے، بامعنی مذاکرات شروع کیے جائیں، اور جموں و کشمیر کے تنازعے کا حل بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تلاش کیا جائے۔بھارت سیاحوں کی تعداد کو معمول کی بحالی کا ثبوت قرار دیتا ہے تاہم 2019 کی پابندیوں اور 2025 کے پہلگام حملے کے بعد سیاحت شدید متاثر ہوئی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وادی میں سیاحت اب بھی سیکیورٹی صورتحال پر منحصر ہے جبکہ سیاحت اور دستکاری سے وابستہ ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوا۔جی ایس ڈی پی میں اضافے کے سرکاری دعوے زمینی معاشی بحران کو نہیں چھپا سکتے۔ نوجوانوں اور خواتین میں بے روزگاری مسلسل بلند سطح پر برقرار ہے۔ سیب کی صنعت، باغبانی، دستکاری، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار اور سیاحت کو شدید مالی نقصانات، کاروباری بندشوں اور سرمایہ کاری میں کمی کا سامنا ہے۔ نئے ٹیکس، متنازع زمینی پالیسیاں اور روزگار کے وعدوں کی عدم تکمیل نے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ تعلیم کا شعبہ مسلسل انٹرنیٹ بندشوں، طویل سیکیورٹی پابندیوں، تعلیمی اداروں کی بندش، اساتذہ کی کمی اور معاشی مشکلات سے متاثر ہے۔ ہزاروں طلبہ تعلیمی اداروں کی بندش سے متاثر ہوئے جبکہ خوف، ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور غیر یقینی صورتحال نے پوری نوجوان نسل کو متاثر کیا ہے۔۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج اور نیم فوجی دستوں کی بھاری تعیناتی برقرار ہے جبکہ سرچ آپریشنز، گرفتاریاں، نظر بندیاں، نگرانی، نقل و حرکت پر پابندیاں اور سخت قوانین کے نفاذ پر انسانی حقوق کے حوالے سے مسلسل خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ زمین، ڈومیسائل، ووٹنگ اور انتظامی قوانین میں تبدیلیوں کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے ناقدین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی روح کے منافی قرار دیتے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذہبی قیادت پر پابندیوں، اسلامی اداروں میں مداخلت اور زبان و ثقافت سے متعلق تبدیلیوں نے کشمیری عوام میں اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔2019 کے بعد نافذ کی گئی بھارتی پالیسیوں نے مسئلہ حل کرنے کے بجائے سیاسی مزاحمت کو مزید مضبوط کیا ہے۔ جولائی 2026 میں ریاستی حیثیت کی بحالی کی تحریک نے مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور مذہبی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر دیا۔ آئینی حقوق کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی، جمہوری اداروں کی بحالی اور بامعنی سیاسی مذاکرات کے مطالبات اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیری عوام کی سیاسی امنگیں آج بھی غیر حل شدہ ہیں۔سات سال گزرنے کے باوجود بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں امن، ترقی اور مکمل انضمام کے اپنے دعووں کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ ثابت نہیں کر سکا، جبکہ خطے میں پائیدار امن کے لیے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلے کے حل کی ضرورت برقرار ہے۔








