غزہ سے اسلحہ کے خاتمے کا معاہدہ، سعودی عرب کا امریکی صدر کے اعلان کا خیر مقدم

سعودی عرب نے غزہ میں اسلحہ کے خاتمے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اہم و تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔ایس پی اے کے مطابق وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب، مصر، قطر، ترکی اور امریکہ، سلامتی کونسل اور ان تمام شراکت داروں کی کوششوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، …

ریاض ۔1اگست (اے پی پی):سعودی عرب نے غزہ میں اسلحہ کے خاتمے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اہم و تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔ایس پی اے کے مطابق وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب، مصر، قطر، ترکی اور امریکہ، سلامتی کونسل اور ان تمام شراکت داروں کی کوششوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جن کی مسلسل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں یہ پیش رفت ممکن ہوئی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مملکت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 2803 کے تحت منظور کیے گئے جامع امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کرتی ہے، اس ضمن میں علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطہ جاری رہے گا۔بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ معاہدے کے تمام مراحل پر طے شدہ ٹائم فریم کے مطابق، قابل اعتماد، حتمی اور ناقابل واپسی انداز میں عمل درآمد ضروری ہے۔سعودی وزارتِ خارجہ نے غزہ سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور فلسطینی عوام کے لیے تعمیرِ نو کی سرگرمیوں پر بھی زور دیا گیا۔

مملکت کی جانب سے اس بات پر بھی زوردیا گیا کہ یہ معاہدہ ایک ایسے جامع سیاسی عمل کا نقطہ آغاز ہونا چاہئے جو امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کی راہ ہموار کرے اور فلسطینی عوام کے حقوق، خاص طور پر حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنائے، تاکہ باہمی اعتراف کی بنیاد پر ریاستِ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان پُرامن بقائے باہمی ممکن ہو سکے۔