ورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں حماس کے اسلحہ سے دستبرداری کا منصوبہ اگر مکمل طور پر نافذ کیا جائے تو امن کے حصول کی طرف ایک تعمیری قدم ہوگا۔العربیہ کے مطابق انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کی کامیابی تمام فریقوں کی کامل پابندی کی متقاضی ہے۔
غزہ معاہدے کی کامیابی کے لیے تمام فریقوں کا پابندی کرنا ضروری ہے، یورپی یونین

مزید خبریں
برسلز ۔1اگست (اے پی پی):یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں حماس کے اسلحہ سے دستبرداری کا منصوبہ اگر مکمل طور پر نافذ کیا جائے تو امن کے حصول کی طرف ایک تعمیری قدم ہوگا۔العربیہ کے مطابق انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کی کامیابی تمام فریقوں کی کامل پابندی کی متقاضی ہے۔ کالاس نے "ایکس” پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا جو امریکہ کی ثالثی اور مصر، قطر، ترکیہ اور بین الاقوامی مندوب نیکولے ملادینوف کے تعاون سے طے پایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حماس کی جانب سے معاہدے کی شقوں کی پابندی کی توثیق کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ بالآخر اسرائیل کو غزہ کی پٹی سے نکلنا ہوگا۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یورپی یونین اگلے مراحل کی حمایت کے لیے تیار ہے۔ ان مراحل میں غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی اور بین الاقوامی استحکام فورس کا داخلہ اور اس بات کی نشاندہی کی کہ زمین پر موجود یورپی یونین کے دو مشنز فلسطینی ریاست کی تعمیر کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بھی شامل ہے۔
کایا کالاس نے مزید کہا کہ یورپی یونین غزہ کے لیے سب سے بڑا انسانی امداد فراہم کرنے والا ہے انہوں نے وضاحت کی کہ جولائی کے دوران یونین نے جنگ کے اثرات سے پٹی کی بحالی کے لیے منصوبوں کی مالی اعانت کے لیے 900 ملین یورو دینے کا وعدہ کیا تھا۔








