آئینی طریقہ کار کے تحت عوام کو نئے صوبوں کا فیصلہ کرنا چاہیے، عقیل ملک

"وزیر مملکت برائے قانون و انصاف عقیل ملک نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینِ پاکستان پر نظرثانی اور عوامی رائے ناگزیر ہے، جبکہ محض نئے صوبے بنا دینا موجودہ مسائل کا مکمل حل نہیں۔”

اسلام آباد۔1اگست (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قانون و انصاف عقیل ملک نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینِ پاکستان پر نظرثانی اور عوامی رائے ناگزیر ہےجبکہ صرف نئے صوبے بنا دینا موجودہ مسائل کا حل نہیں۔

نجی ٹی وی سےگفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اب بھی نوآبادیاتی دور کی سوچ کے تحت چل رہا ہےاس لیے بیوروکریسی کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اس معاملے پر مل بیٹھ کر سنجیدہ بحث کا آغاز کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو خدمات کی فراہمی میں بیوروکریسی کا بنیادی کردار ہے لہٰذا اس ادارے میں بھی جامع اصلاحات ضروری ہیں۔ایک سوال کے جواب میں عقیل ملک نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 48 میں ریفرنڈم سے متعلق واضح رہنمائی موجود ہے، اس لیے کسی بھی بڑے فیصلے سے قبل عوامی رائے لینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اصل طاقت عوام کے پاس ہے، اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو صوبائیت سے بالاتر ہو کر قومی یکجہتی اور ’’پاکستانیت‘‘ کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔وزیر مملکت نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ وہ ملک کی ترقی اور خوشحالی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔