پنجاب حکومت نے ٹیکسلا کے تحفظ کے لیے پہلا جامع ماسٹر پلان تیار کر لیا

پنجاب حکومت نے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ٹیکسلا کے تحفظ کے لیے پہلا جامع اور طویل المدتی ماسٹر پلان تیار کر لیا جس کے ذریعے ماضی کے بکھرے ہوئے بحالی منصوبوں کی جگہ مربوط انتظامی نظام متعارف کرایا گیا ہے تاکہ جنوبی ایشیا کے اہم ترین آثارِ قدیمہ میں سے ایک کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

اسلام آباد۔3اگست (اے پی پی):پنجاب حکومت نے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ٹیکسلا کے تحفظ کے لیے پہلا جامع اور طویل المدتی ماسٹر پلان تیار کر لیا جس کے ذریعے ماضی کے بکھرے ہوئے بحالی منصوبوں کی جگہ مربوط انتظامی نظام متعارف کرایا گیا ہے تاکہ جنوبی ایشیا کے اہم ترین آثارِ قدیمہ میں سے ایک کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ اقدام ٹیکسلا کے عالمی ثقافتی ورثے کے لیے الگ الگ بحالی منصوبوں سے ہٹ کر ایک مربوط ورثہ انتظامی نظام کی جانب اہم پیش رفت ہےجس کے تحت موہڑہ مرادو اور سرکپ کے تاریخی مقامات پر بڑے پیمانے پر تحفظ کے اقدامات کیے گئے ہیں۔دستاویزات کے مطابق اس پروگرام کا مقصد ٹیکسلا کی تاریخی اصل، سالمیت اور اس کی غیر معمولی عالمی اہمیت کو محفوظ رکھتے ہوئے آئندہ نسلوں کے لیے اس کے پائیدار تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکسلا کے آثارِ قدیمہ کئی دہائیوں سے قدرتی ٹوٹ پھوٹ، غیر موزوں بحالی کے طریقوں، نمی، بے قابو جنگلی پودوں، کٹاؤ اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ کا شکار رہے ہیں۔اس سے قبل بحالی کے کام ایک جامع انتظامی منصوبے کے بغیر الگ الگ کیے جاتے رہے جبکہ ماضی میں مرمت کے لیے آہنی سریے اور سیمنٹ کے استعمال سے متعدد تاریخی عمارتوں کی اصل ساخت بھی متاثر ہوئی۔ ان مسائل کے حل کے لیے پنجاب حکومت نے دی اربن یونٹ کو ٹیکسلا کا پہلا جامع ماسٹر پلان تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی جبکہ اس پر عمل درآمد کا پروگرام نیسپاک نے تیار کیا۔دستاویزات کے مطابق اس حکمت عملی میں آثارِ قدیمہ کی تحقیق، عمارتوں کا تحفظ، ماحولیاتی انتظام، عجائب گھروں کی ترقی، سیاحتی سہولتوں، ڈیجیٹل دستاویز سازی، رسائی میں بہتری اور ادارہ جاتی استعداد کار کو ایک مربوط نظام کے تحت شامل کیا گیا ہے۔

تحفظ کا آغاز گندھارا دور کے اہم بدھ مت خانقاہی مرکز موہڑہ مرادو سے کیا گیا جہاں مرکزی نذرانہ سٹوپا پر پہلے نصب کیے گئے آہنی اور کنکریٹ کے ڈھانچے ہٹا کر بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہلکے حفاظتی شیڈ نصب کیے گئے۔منصوبے کے تحت معذور افراد کی رسائی آسان بنانے کے لیے تاریخی پتھریلی سیڑھیوں کو متاثر کیے بغیر مٹی سے ایک خصوصی راستہ بھی بنایا گیا۔آثارِ قدیمہ کی تحقیق کے دوران خانقاہ کے اصل نکاسی آب کے نظام اور ایک تاریخی مقدس کنویں کو بھی دوبارہ دریافت کیا گیا جس سے نہ صرف مقام کے تحفظ میں مدد ملی بلکہ تاریخی معلومات میں بھی اضافہ ہوا۔سرکپ میں تحفظ کے ماہرین نے گھنی جھاڑیوں اور جمع شدہ ملبے کو ہٹایا جس نے آثارِ قدیمہ کو ڈھانپ رکھا تھا اور تاریخی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا رہا تھا۔

دستاویزات کے مطابق یہاں مرمتی کام قیاس آرائی پر مبنی دوبارہ تعمیر کے بجائے اصل طرزِ تعمیر سے ہم آہنگ مواد اور کم سے کم مداخلت کے اصول کے مطابق کیا گیا۔پہلی مرتبہ اس تحفظ پروگرام کو جامع سائنسی دستاویزات کی بنیاد حاصل ہوئی جن میں تاریخی ریکارڈ کا مطالعہ، آثارِ قدیمہ کی تحقیق، جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) کی نقشہ سازی، تھری ڈی لیزر سکیننگ، عمارتوں کی ساختی جانچ، ہیریٹیج امپیکٹ اسیسمنٹس اور تعمیراتی مواد کی مطابقت سے متعلق مطالعات شامل ہیں جو مستقبل میں نگرانی اور تحفظ کے لیے تکنیکی بنیاد فراہم کریں گے۔منصوبے کے نتیجے میں ٹیکسلا کا پہلا کنزرویشن مینجمنٹ پلان بھی تیار کیا گیا ہے جس میں طویل المدتی تحفظ، دیکھ بھال، سیاحتی انتظام، قدرتی آفات سے نمٹنے، ماحولیاتی نگرانی اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے لیے واضح پالیسیوں کا تعین کیا گیا ہے ۔

دستاویزات کے مطابق اس پروگرام کے تحت تاریخی مقامات کے گرد بفر زونز بھی متعین کیے گئے ہیں تاکہ قانونی اور جغرافیائی تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ سیاحتی سہولتوں، معلوماتی رہنمائی، تاریخی مقامات کی بہتر پیشکش اور عجائب گھروں کی نمائش کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی تجاویز بھی تیار کی گئی ہیں تاکہ ٹیکسلا کی تاریخی اہمیت کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔