لیو ٹو اپیل مسترد ہونے سے ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں ضم نہیں ہوتا، دفعہ 12(2) کی درخواست ہائی کورٹ میں دائر ہوگی، سپریم کورٹ

لیو ٹو اپیل مسترد ہونے سے ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ضم (Merge) نہیں ہوتا، اس لئے ضابطہ دیوانی (سی پی سی) کی دفعہ 12(2) کے تحت فیصلہ فراڈ، غلط بیانی یا دائرہ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر چیلنج کرنے کی درخواست اصولی طور پر اسی ہائی کورٹ میں دائر کی جائے گی جس نے اصل فیصلہ دیا ہو۔

اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):لیو ٹو اپیل مسترد ہونے سے ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ضم (Merge) نہیں ہوتا، اس لئے ضابطہ دیوانی (سی پی سی) کی دفعہ 12(2) کے تحت فیصلہ فراڈ، غلط بیانی یا دائرہ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر چیلنج کرنے کی درخواست اصولی طور پر اسی ہائی کورٹ میں دائر کی جائے گی جس نے اصل فیصلہ دیا ہو۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ صرف اپیل کی اجازت مسترد ہونے سے ہائی کورٹ اپنا قانونی اختیار نہیں کھوتی۔جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے متعدد سول لیو ٹو اپیل پٹیشنز اور سول متفرق اپیلوں پر مشترکہ فیصلہ سنایا۔

فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریر کیا۔مقدمہ بہاولپور میں واقع جائیداد کے انتقال نمبر 60 کی قانونی حیثیت سے متعلق تھا۔ ٹرائل کورٹ نے دعویٰ خارج کرتے ہوئے انتقال کو درست قرار دیا تھا تاہم اپیلیٹ کورٹ نے فیصلہ کالعدم قرار دیا جسے بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کے بہاولپور بینچ نے بھی برقرار رکھا۔ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں سول پٹیشنز دائر کی گئیں، تاہم 23 جنوری 2023 کو سپریم کورٹ نے تفصیلی وجوہات کے ساتھ اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں نظرثانی درخواستیں بھی مسترد کر دی گئیں۔اس کے بعد بعض ایسے افراد، جو مقدمے میں فریق نہیں تھے لیکن جائیداد میں اپنا مفاد ظاہر کرتے تھے، نے لاہور ہائی کورٹ میں سی پی سی کی دفعہ 12(2) کے تحت درخواستیں دائر کیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ انہیں مقدمے میں فریق بنائے بغیر فیصلہ دیا گیا، لہٰذا ہائی کورٹ کا فیصلہ واپس لیا جائے۔

لاہور ہائی کورٹ نے درخواستیں ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ سپریم کورٹ تفصیلی حکم جاری کر چکی ہے، اس لیے مناسب فورم سپریم کورٹ ہے۔بعد ازاں درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ میں بھی دفعہ 12(2) کے تحت درخواستیں دائر کیں، تاہم سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے انہیں قابل سماعت نہ ہونے کی بنیاد پر واپس کر دیا، جس کے خلاف سول متفرق اپیلیں دائر کی گئیں۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ضابطہ دیوانی کی دفعہ 12(2) کے تحت درخواست اسی عدالت میں دائر ہوتی ہے جس نے متعلقہ فیصلہ دیا ہو۔ اگر سپریم کورٹ صرف لیو ٹو اپیل مسترد کرے اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھے تو اس سے ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ضم نہیں ہوتا اور نہ ہی ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار ختم ہوتا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ ڈاکٹرائن آف مرجر ہر مقدمے پر یکساں طور پر لاگو نہیں ہوتی۔

اگر سپریم کورٹ اپیل منظور کرکے ہائی کورٹ کے فیصلے کو تبدیل یا کالعدم قرار دے تو صورت حال مختلف ہو سکتی ہے، تاہم صرف لیو ٹو اپیل مسترد ہونے کی صورت میں اصل فیصلہ ہائی کورٹ ہی کا تصور ہوگا۔سپریم کورٹ نے سیکرٹری وزارت مذہبی امور بنام سید عبدالمجید (1993 SCMR 1171)، خواجہ محمد یوسف بنام وفاق پاکستان (1999 SCMR 1516)، عابد کمال کیس (2000 SCMR 900)، محمد یوسف بنام نور دین (PLD 2002 SC 391)، نصراللہ خان کیس (PLD 2013 SC 478) اور شہزادی مہر النساء کیس (PLD 2016 SC 358) سمیت متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ اصولی طور پر دفعہ 12(2) کی درخواست کا فورم ہائی کورٹ ہی رہے گی۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ اگرچہ غیر معمولی حالات میں، جہاں سپریم کورٹ نے لیو مسترد کرتے ہوئے قانونی و حقائق کے نکات پر تفصیلی فیصلہ دیا ہو، سپریم کورٹ ایسی نوعیت کی درخواست خود بھی سن سکتی ہے، تاہم یہ اس کا صوابدیدی اختیار ہے اور اس سے ہائی کورٹ کے قانونی اختیار کا خاتمہ نہیں ہوتا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قانون کی درست تشریح یہی ہے کہ لیو ٹو اپیل مسترد ہونے کی صورت میں ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رہتا ہے اور دفعہ 12(2) کے تحت کارروائی کے لیے ہائی کورٹ ہی بنیادی اور مجاز فورم ہوتی ہے، الا یہ کہ غیر معمولی حالات میں سپریم کورٹ اپنے صوابدیدی اختیار کو استعمال کرنے کا فیصلہ کرے۔