ممتاز ماہرِ تعلیم ڈاکٹر نذیر احمد کی 41 ویں برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

نامور ماہرِ حیوانیات، ممتاز ماہرِ تعلیم اور زرعی تحقیق کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر نذیر احمد کی 41 ویں برسی منگل کے روز عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ ڈاکٹر نذیر احمد4 اگست1985 کو انتقال کر گئے تھے تاہم تعلیم، تحقیق اور انتظامی میدان میں ان کی خدمات آج بھی علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر نذیر احمد5 دسمبر1904 کو …

لاہور۔4اگست (اے پی پی):نامور ماہرِ حیوانیات، ممتاز ماہرِ تعلیم اور زرعی تحقیق کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر نذیر احمد کی 41 ویں برسی منگل کے روز عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ ڈاکٹر نذیر احمد4 اگست1985 کو انتقال کر گئے تھے تاہم تعلیم، تحقیق اور انتظامی میدان میں ان کی خدمات آج بھی علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر نذیر احمد5 دسمبر1904 کو لاہور کے تاریخی علاقے حویلی بارود خانہ میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں والد کے انتقال کے بعد ان کی والدہ نے ان کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کی والدہ کانونٹ سکول سے تعلیم یافتہ تھیں اور اعلی تعلیم کی بھرپور حامی تھیں جس کے باعث ڈاکٹر نذیر احمد نے ابتدائی عمر ہی سے علم و تحقیق کی راہ اختیار کی۔ان کے خاندان کے دیگر افراد نے بھی ان کی تعلیم میں نمایاں معاونت کی۔ ڈاکٹر عبدالمجید شاہ، جو برطانوی بادشاہ جارج پنجم کے شاہی معالج رہ چکے تھے ان کی سرپرستی کی۔ ڈاکٹر نذیر احمد اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے، جبکہ ڈاکٹر سید احمد اور معروف موسیقار استاد موتی شاہ، جن کا اصل نام ظہور شاہ تھا، ان کے چھوٹے بھائی تھے۔ ڈاکٹر نذیر احمد نے جامعہ کلکتہ سے اعلی تعلیم حاصل کی اور اپنی غیر معمولی تعلیمی کارکردگی کی بدولت برطانیہ میں پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کے مواقع حاصل کیے۔

انہوں نے امپیریل کالج لندن اور کیمبرج یونیورسٹی میں تحقیق کی، جہاں ان کی توجہ فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کی روک تھام پر مرکوز رہی۔ ان کی تحقیق نے پاکستان میں بالخصوص کپاس کی فصل کے تحفظ اور پیداوار میں اہم کردار ادا کیا۔ تعلیمی میدان میں بھی انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ گورنمنٹ کالج جھنگ کے پرنسپل رہے، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ حیوانیات کے سربراہ مقرر ہوئے اور1959 میں اسی ادارے کے پرنسپل بنے۔ ان کے دور کو ادارے میں علمی ترقی، اعلی انتظامی روایات اور طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت کے حوالے سے خاص اہمیت حاصل ہے۔ ڈاکٹر نذیر احمد نے اپنی زندگی علم، تحقیق اور تعلیم کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی 41 ویں برسی پر علمی، تعلیمی اور تحقیقی حلقوں کی جانب سے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے اور ان کی قومی خدمات کو بھرپور انداز میں یاد کیا جا رہا ہے۔